لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 588
588 زیر علاج رہے تھے اور گو گھر واپس تشریف لے گئے تھے۔مگر ابھی مکمل شفا حاصل نہیں ہوئی تھی۔ان کے متعلق ڈاکٹر صاحبان نے بتایا کہ گردے میں پتھری ہے۔لہذا ایک بڑا آپریشن کرانا ضروری ہے۔محترم مولوی صاحب کافی عرصہ بیمار ر ہے۔کبھی گھر پر اور کبھی ہسپتال میں علاج ہوتا رہا۔مگر اگست ۱۹۵۸ء میں صحت بہت گر گئی۔حتی کہ ۳۱ - اگست ۱۹۵۸ء کو داعی اجل کو لبیک کہہ کر اپنے خالق و مالک کے حضور حاضر ہو گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔فتند منافقین و مخرجین ۱۹۵۶ء حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ کی اولاد ایک عرصہ سے غیر مبائعین اور سلسلہ عالیہ احمد یہ کے غیر احمدی دشمنوں کے ساتھ ساز باز رکھتی تھی جس کا مفصل ذکر حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی تقریر نظام آسمانی کی مخالفت اور اس کا پس منظر میں موجود ہے۔اس تقریر میں بعض مخلص احمد یوں کی شہادتوں سے ظاہر ہے کہ انہوں نے چند نو جوانوں کو اپنے ساتھ ملا کر یہ منصوبہ بنایا تھا کہ (نعوذ بالله من ذالک ( حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی وفات کے بعد وہ میاں عبدالمنان صاحب عمر کی بیعت کریں گے۔چنانچہ محترم جناب چوہدری اسد اللہ خاں صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور کی بیدار مغزی اور دینی غیرت کی وجہ سے فتنہ پردازوں کا یہ راز افشا ہو گیا۔انہوں نے فوراً ضروری شہادتیں حاصل کر کے حضرت امیر المومنین کی خدمت میں بھجوا دیں اور جماعت احمد یہ لاہور کے ایک عام اجلاس میں منافقین کے اس گروہ سے بیزاری کا اعلان کیا اور ایک قرار داد پاس کروائی جس کی رو سے حضرت امیر المومنین کی خدمت میں یہ سفارش کی گئی کہ ان منافقین و مخرجین کو جماعت احمد یہ لاہور کے افراد تسلیم نہ کیا جائے۔جماعت لاہور کی یہ سفارش صدر انجمن احمد یہ پاکستان کے اجلاس مورخہ ۲۰- اکتوبر ۱۹۵۶ء میں منظور کی گئی۔ان افراد نے ایک پارٹی بنائی تھی جس کا نام انہوں نے ”حقیقت پسند پارٹی رکھا تھا۔اس پارٹی نے ان دنوں اپنے خبث باطنی و گند کو بہت اچھالا تھا اور جماعت کے خلاف بڑی شرارتیں کی تھیں مگر خدا تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر کیا۔اب وہ گروہ کالعدم ہو چکا ہے۔محترم ملک عبدالرحمن صاحب خادم کی وفات۔۳۱ - دسمبر ۱۹۵۷ء محترم ملک عبدالرحمن صاحب خادم گجراتی ایل۔ایل۔بی سلسلہ احمدیہ کے ایک پُر جوش اور