لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 51 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 51

51 المسیح “ کا شائع ہونا تھا کہ پیر صاحب کے مریدوں نے مولوی کرم دین صاحب کی مخالفت شروع کر دی اس مخالفت سے گھبرا کر مولوی کرم دین صاحب نے جہلم کے اخبار ” سراج الاخبار“ کے ۶/اکتوبر ۱۹۰۲ء کے پرچہ میں لکھا کہ یہ خطوط جو مرزا صاحب نے میری طرف منسوب کئے ہیں جعلی اور بناوٹی ہیں۔میں نے ہرگز نہیں لکھے۔اس کے بعد اس نے جہلم میں لالہ سنسار چند صاحب مجسٹریٹ کی عدالت میں حضرت اقدس حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم اور حضرت مولوی فضل دین صاحب بھیروی کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی کی نالش دائر کر دی۔جس کے سلسلہ میں حضرت اقدس کو جہلم کا سفر اختیار کرنا پڑا۔مقدمہ کی تاریخ ۱۷/ جنوری ۱۹۰۳ تھی۔اس لئے حضور ۱۵/ جنوری کو قادیان سے روانہ ہوئے اور راستہ میں ۱۶ جنوری کو بمقام لاہور حضور کو الہام ہوا۔اریک برکات مـن کـل طرف۔یعنی میں تجھے ہر ایک پہلو سے برکتیں دکھلاؤں گا۔رات آپ نے لاہور میں حضرت میاں چراغ دین صاحب رئیس لاہور کے نئے مکان واقعہ بیرون دہلی دروازہ میں گذاری۔اور جب جہلم سے بانیل مرام واپس ہوئے تو بھی ۱۱۸ جنوری کو رات حضرت میاں چراغ دین صاحب کے مکان میں ہی قیام فرمایا۔اس سفر میں علاوہ اور اصحاب کے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کا بل بھی حضور کے ہمراہ تھے۔لاہور میں میاں فیملی نے حضور اور حضور کے ہمرایوں کی مہمان نوازی میں دن رات ایک کر دیا اور خدمت کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کا لاہور میں قیام حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف افغانستان سے حج خانہ کعبہ کے لئے نکلے تھے۔مگر جب پشاور پہنچے تو ایک دم ذہن میں اس طرف مائل ہو گیا کہ زندگی کا اعتبار نہیں۔مجھے پہلے امام الزمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر شرف زیارت حاصل کرنا چاہئے مگر قادیان پہنچ کر حضرت مسیح زمان کی پاک صحبت سے ایسے وارفتہ ہو گئے کہ دو تین مہینے گزار دیئے حتی کہ حج کے ایام بھی گذر گئے۔واپسی کے وقت آپ نے لاہور میں چند روز مسجد حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب واقعہ لنگے منڈی میں قیام فرمایا یہ خط و کتابت حضرت شیخ یعقوب علی صاحب نے بھی الحکم میں شائع کر دی تھی۔(مؤلف) حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب کی زندگی تک نماز جمعہ بھی انہی کی مسجد میں ہوا کرتی تھی ان کی وفات کے بعد نمازیں تو برابر وہاں ہوتی رہیں مگر جمعہ حضرت مولوی غلام حسین صاحب کی مسجد میں ہوا کرتا تھا۔