لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 518
518 کہ ڈاکٹر صاحب کے احمدیت پر اعتراضات اور احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا سوال بالکل نامعقول اور خودان کے گذشتہ رویہ کے خلاف ہے۔پس ایسے حالات میں ان کے اس صوبہ میں بطور مہمان آنے پر ان کا نیشنل لیگ کور کی طرف سے استقبال موقعہ کے مطابق اور برمحل تھا۔مسجد چابکسواراں کا قصہ محترم شیخ بشیر احمد صاحب کے زمانہ امارت کا ایک واقعہ حلقہ چابک سواراں کی ایک مسجد سے متعلق ہے جس کے متولی حضرت سید دلاور شاہ صاحب بخاری کے نانا ملا غوث تھے۔اس مسجد میں کئی سال سے سید صاحب موصوف امامت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔مگر ۱۹۳۶ء کے نصف اول میں غیر احمدیوں کے شریر عصر نے اس مسجد پر مخالفانہ قبضہ کرنا چاہا۔نوبت با نجار سید کہ عدالت میں مقدمہ کرنا پڑا۔۵۲ اس مقدمہ میں احمدیوں کی طرف سے جناب شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ اور غیر احمدیوں کی طرف سے نولکشو ر صاحب بارایٹ لاء پیش ہوئے۔۱۲- نومبر ۱۹۳۶ء کو ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ مسجد میں باجماعت نما ز صرف احمدی پڑھ سکتے ہیں جس کا مطلب یہ تھا کہ غیر احمدی بھی جب چاہیں فرداً فرداً بغیر جماعت کے نماز پڑھنے کے قانوناً حقدار ہیں مگر اس کے نتیجہ میں چونکہ مسجد میں پر امن طریق پر عبادت نہیں ہو سکتی تھی اس لئے جماعت نے خود ہی یہ مسجد چھوڑ دی۔محترم پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے کا تقرر بطور نائب امیر محترم شیخ بشیر احمد صاحب کو چونکہ مقدمات کے سلسلہ میں اکثر لا ہور سے باہر جانا پڑتا تھا اس لئے اس خیال سے کہ جماعتی کاموں میں رکاوٹ پیدا نہ ہو حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے محترم جناب پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے کو نائب امیر مقرر فرمایا۔حضرت سیدہ ام طاہر کی بیماری اور حضرت امیر المومنین کی لاہور میں تشریف آوری: ۱۹۲۳۴۴ء کے واقعات میں سے دو اہم واقعات تاریخ احمدیت میں خاص اہمیت رکھتے