لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 50 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 50

50 بھیجنے پر ایک ہفتہ بھی نہیں گذرا تھا کہ وہ خود اس لعنتی موت کا شکار ہو گئے۔پیر مہر علی شاہ صاحب کو اپنے اس متوفی مرید مولوی محمد حسن صاحب کے نوٹوں کا علم تھا۔لہذا انہوں نے اپنے کسی مرید کے ذریعہ مذکورہ بالا دونوں کتابیں جن کے حاشیوں پر متوفی کے نوٹ لکھے ہوئے تھے، منگوا لیں اور انہیں ترتیب دے کر ایک کتاب لکھی جس کا نام رکھا سیف چشتیائی“۔مگر مولوی محمد حسن صاحب کا اپنی اس کتاب میں ذکر تک نہ کیا۔پھر کتاب بھی بجائے عربی کے اردو میں لکھی اور مضمون بھی تغیر کی بجائے ادھر اُدھر کی لایعنی باتیں تھیں اور معیاد بھی گذر چکی تھی۔غرض کسی پہلو سے بھی یہ کتاب حضرت اقدس کی کتاب کا جواب نہ تھی۔بہر حال یہ کتاب شائع ہوگئی۔انہی ایام کا ذکر ہے کہ موضع بھین ہی کا ایک نوجوان مسمی شہاب الدین یہ کتاب دیکھ رہا تھا کہ اتفاقاً اسے ایک آدمی ملا جس کے پاس کچھ کتابیں تھیں اور اس نے میاں شہاب الدین سے پوچھا کہ مولوی محمد حسن صاحب متوفی کا گھر کہاں ہے؟ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب نے ان کے گھر سے یہ کتابیں منگوائی تھیں واپس کرنی ہیں۔میاں شہاب الدین صاحب نے جب وہ کتابیں لے کر دیکھنا شروع کیں تو یہ معلوم کر کے اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ پیر صاحب کی کتاب ” سیف چشتیائی لفظ بلفظ مرحوم محمد حسن کا سرقہ ہے۔چنانچہ اس نے اس حقیقت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بذریعہ خط اطلاع کر دی۔حضور نے اسے لکھا کہ وہ دونوں کتابیں جن پر مولوی محمد حسن مرحوم کے نوٹ لکھے ہیں خرید کر یہاں لے آؤ۔ہم تمہیں کتابوں کی قیمت بھی دیں گے اور آمد و رفت کا خرچ بھی۔مگر میاں شہاب الدین نے اپنی مشکلات کے مدنظر اس امر سے معذوری کا اظہار کیا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے بھی اسے ایک چٹھی پر مشتمل لکھی تھی اس نے وہ چٹھی مولوی کرم دین صاحب سکنہ بھین کو دکھا دی۔مولوی کرم دین اسی مضمون پر صاحب ان ایام میں حضرت اقدس کے مداح تھے۔انہوں نے بھی حضرت صاحب کی خدمت میں پیر صاحب کے تصنیفی سرقہ سے اطلاع دے دی اور حضرت مولوی فضل دین صاحب بھیروی کے ایک خط لکھنے پر مولوی محمد حسن صاحب کے ایک لڑکے سے چھ روپیہ میں ایک کتاب اعجاز مسیح “ حاصل کر کے حضرت حکیم صاحب کو بھیج دی۔بعد ازاں حضرت حکیم صاحب نے چھ روپے اور دے کر دوسری کتاب نمس بازغہ“ بھی حاصل کر لی اور جب یہ سارا مواد حاصل ہو گیا تو چونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان نشان ظاہر ہوتا تھا۔حضرت اقدس نے اسے اپنی کتاب ” نزول اسیح ،، میں شائع فرما دیا۔نزول