لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 491
491 لندن میں پوسٹیکل مسلم لیگ کا قیام سید دلاور شاہ صاحب بخاری اور مولوی نورالحق صاحب کو سزا دینے کا رد عمل یہ ہوا کہ ہند وستان بھر کے مسلمانوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی تحریک کے مطابق جلسے کرنے شروع کئے اور جہاں اس سزا کے خلاف پر زور احتجاج کیا گیا وہاں مشتر کہ انجمنیں قائم کر کے کھانے پینے کے سامان کے متعلق اپنی دکانیں کھلوائیں۔تبلیغ اسلام کی طرف توجہ دی اور اپنے سیاسی حقوق کے حصول کیلے جد و جہد تیز کر دی اور ایک محضر نامہ تیار کیا جس میں پانچ لاکھ مسلمانوں کے دستخط کر وائے گئے۔۵۲ مجھے وہ زمانہ خوب یاد ہے جب ہم لوگ اس قسم کے جلسوں میں جا کر تقریریں کرتے تھے تو ہندو بہت برہم ہوا کرتے تھے۔ہم انہیں کہتے تھے کہ ہماری اس سکیم پر آپ کیوں ناراض ہوتے ہیں۔کیا مسلمانوں کو دودھ دہی اور مٹھائی کی دکانیں کھولنے کا حق نہیں۔پھر جب آپ لوگ مسلمانوں کے ہاتھ کی تیار کی ہوئی مٹھائی نہیں کھاتے تو آپ اس امر پر شا کی کیوں ہوتے ہیں کہ مسلمان بھی آپ کے ہاتھ کی تیار کردہ چیز نہ کھائیں۔اس پر انہیں ناچار خاموش ہونا پڑتا تھا۔بہر حال حضور کی یہ سکیم بہت کامیاب رہی۔پنڈت لیکھرام کے قتل کئے جانے کے بعد جب بعض ہند و دوکانداروں نے مسلمان بچوں کے ہاتھ ایسی مٹھائی فروخت کرنا شروع کی جس میں زہر ملا ہوا تھا تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریک پر کچھ مسلمانوں نے اپنی دوکا نہیں کھولیں لیکن حضرت خلیفتہ ایسے " کی تحریک پر چونکہ منظم رنگ میں کام کیا گیا۔اس لئے اس زمانہ میں مسلمانوں نے کثرت سے دکانیں کھولنا شروع کیں۔بہر حال مسلم قوم کو پستی سے نکالنے کے لئے حضور کی اس ملک میں تو یہ سرگرمیاں تھیں۔برٹش پارلیمنٹ کے ممبروں کو حالات سے آگاہ کرنے اور انہیں مسلمانوں کو سیاسی حقوق دلوانے پر آمادہ کرنے کے لئے حضور نے لندن میں ایک مسلم پولیٹیکل لیگ قائم کروائی۔۵۳ اس لیگ میں لاہور کے مشہور وکلا شامل تھے۔انہوں نے بھی متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ مسلم حقوق سے انگریز قوم کو روشناس کرانے کا کام چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے علاوہ اور کوئی شخص بہتر طور پر نہیں کر سکتا۔چنانچہ انہی ایام میں حضرت چوہدری صاحب لندن تشریف لے گئے۔آپ نے مسلمانان پنجاب کا نمائندہ ہونے کی حیثیت میں دار العلوم اور دار الامراء کے ممبروں انڈیا آفس کے عہدیداروں،