لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 401
401 نور محمد صاحب ہمدم صحت والے دندان ساز۔ان میں سے بھی جناب شیخ رحمت اللہ صاحب با وجود غیر مبائع ہونے کے عمر بھر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مخلصانہ تعلقات رکھتے رہے۔بہر حال ان تین افراد کو اگر غیر مبائعین پاک ممبروں میں شمار کرنا چاہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی رو سے شامل کر سکتے ہیں باقی اکابر کو شامل نہیں کر سکتے۔جناب مولوی محمد علی صاحب تو جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے ۱۹۰۰ء میں قادیان میں تھے۔جناب خواجہ کمال الدین صاحب پشاور میں اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب فاضل کا میں تھے۔باقی رہ گئے ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور ڈاکٹر بشارت احمد صاحب یہ ۱۹۰۳ء میں احمدی ہوئے ہیں۔لہذا یہ بھی پاک ممبروں میں شامل نہیں ہو سکتے۔جب یہ حقائق ہیں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ غیر مبائعین اپنے اکابر کو کس بناء پر’ لاہور کے پاک ممبران میں شامل کرتے ہیں؟ لاہور کے ان اصحاب کی فہرست جو ۳۱۳ میں شامل تھے (مندرجہ ضمیمہ انجام آتھم ) ا۔ڈاکٹر مرزا یعقوبیگ صاحب کلانوری نمبر ۴۰ ( ان دنوں میڈیکل کالج میں پڑھتے تھے ) ۲۔مرزا ایوب بیگ صاحب مع اہل بیت کلانوری نمبر ۴۱ ( ان دنوں لاہور میں ہی تھے ) ۳- حکیم مرزا خدا بخش صاحب جھنگی نمبر ۴۲ ( یہ بھی ان دنوں لاہور میں ملازم تھے ) ۴۔خواجہ کمال الدین صاحب بی۔اے معہ اہل بیت نمبر ۶۴ (ان دنوں ابھی وکالت پاس نہیں کی تھی ) ۵ - مفتی محمد صادق صاحب نمبر ۶۵ ( آپ ان دنوں لاہور میں ملازم تھے ) منشی محمد افضل صاحب نمبر ۶۷ ے۔بابو تاج الدین صاحب اکو نٹنٹ نمبر اے - شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر نمبر ۷۲ ۹۔شیخ نبی بخش صاحب نمبر ۷۳ ۱۰۔میاں معراج الدین صاحب عمر نمبر ۷۴