لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 400 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 400

400 مرزا یعقوب بیگ صاحب کے اسماء بھی درج ہیں مگر مولوی محمد علی صاحب کے نام کے آگے قادیان لکھا ہے کیونکہ مولوی صاحب ان ایام میں قادیان میں رہا کرتے تھے اور خواجہ صاحب پشاور میں وکالت کرتے تھے اس لئے ان کے نام کے ساتھ پشاور لکھا ہے اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب فاضل کا میں بوجہ ملا زمت مقیم تھے اس لئے ان کے نام کے آگے فاضل کا لکھا ہے۔پس یہ تینوں اصحاب چونکہ ان دنوں لاہور میں مقیم نہیں تھے اس لئے ان کا شمار لاہور میں ہمارے پاک ممبر موجود ہیں“ والے پاک ممبروں میں نہیں ہوسکتا۔اوپر کے بارہ افراد کے علاوہ سات افراد اور ہیں جن کے نام حضرت اقدس نے اپنی کتاب میں درج فرمائے ہیں۔اور وہ ۱۹۰۰ ء میں بھی لاہور میں موجود تھے۔بیشک بعض اور افراد کے نام کے ساتھ بھی حضور نے اپنی کتب میں لاہور لکھا ہے مگر یا تو دن ۱۹۰ ء سے قبل وفات پاچکے تھے یا لا ہور سے کہیں باہر چلے گئے تھے۔بہر حال ۱۹۰۰ء میں لاہور میں موجود افراد کے نام یہ ہیں : ا۔میاں عبدالعزیز ش صاحب نمبر ۴۲۵۱ ۲۔شیخ نبی بخش ملے صاحب لاہور نمبر ۳٬۷۳۔حافظ فضل احمد المصاحب لاہور ۴۔مولوی غلام حسین المصاحب لاہور نمبر ۱۳۳ ( گمٹی والے ) ۵ منشی مولا بخش ۱۳ صاحب کلرک لاہور نمبر ۶۲۱۶ - کرم الہی کے صاحب کمپوزیٹر لا ہور نمبر ۷٬۲۹۰۔میاں عبدالسبحان ۱۵ صاحب لاہور نمبر ۲۷۸ اوپر کے بارہ اصحاب کے ساتھ اگر ان سات افراد کو شامل کر لیا جائے تو یہ کل انہیں افراد بنتے ہیں جو ۱۹۰۰ء میں جب یہ الہام ہوا کہ لاہور میں ہمارے پاک ممبر موجود ہیں“ لاہور میں موجود تھے۔البتہ ایک اور بزرگ جن کا نام حضور نے روئداد جلسہ طاعون“ کے عنوان کے ماتحت الانذار‘ میں درج فرمایا ہے میاں فیروز الدین صاحب متبنی میاں محمد سلطان صاحب مرحوم رئیس لا ہور تھے۔یہ صاحب بھی ۱۹۰۰ ء میں زندہ موجود تھے اور جماعت لاہور کے ممبر تھے۔اس طرح حضور نے جو فر مایا کہ لاہور میں میرے ساتھ تعلق رکھنے والے پندرہ ہیں آدمی سے زیادہ نہیں ہیں، بالکل صحیح ثابت ہوتا ہے۔مندرجہ بالا میں لاہوری اصحاب میں سے صرف مندرجہ ذیل تین افراد ایسے ہیں جو خلافت ثانیہ کی ابتداء میں غیر مبائعین کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔ا۔خلیفہ رجب دین صاحب تاجر -۲۔شیخ رحمت اللہ صاحب مالک انگلش ویر ہاؤس اور ۳۔حکیم