لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 369
369 رکھی۔گورنمنٹ کالج لاہور سے بی۔اے کی ڈگری حاصل کر کے آپ قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے لندن تشریف لے گئے۔اور واپس تشریف لا کر پہلے سیالکوٹ میں اور پھر جلد ہی لاہور میں آ کر کام شروع کیا اور خدا تعالیٰ نے آپ کو ایسی ترقی دی کہ چند سال کے اندر اندر ہی آپ کا نام لاہور کے قانون دانوں کی صف اوّل میں شمار ہونے لگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت آپ نے سیالکوٹ میں ستمبر ۱۹۰۴ء میں کی۔قادیان کی پہلی مرتبہ زیارت ستمبر ۱۹۰۵ء میں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت ۱۶ ستمبر ۱۹۷ء کو کی۔جب آپ لا ہور تشریف لائے تو تھوڑے ہی عرصہ کے بعد حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی نے آپ کو لاہور کی جماعت کا امیر اور حضرت حکیم محمد حسین صاحب قریشی رضی اللہ عنہ کوسیکرٹری مقرر فرمایا۔۴۹ آپ دس بارہ سال جماعت کے امیر ر ہے مگر اس عرصہ میں آپ نے سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی لاہور میں آمد سے خوب فائدہ اٹھایا۔حضور کے متعد دعلمی لیکچر ہوئے جن میں لاہور کے اعلیٰ اور ذہین طبقہ کے لوگ شامل ہوتے رہے اور پریس میں بھی حضور کی علمی قابلیت کا چر چا جاری رہا۔گورنمنٹ انگریزی نے ہندوستان کے سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لئے ہندوستان کے ہندو مسلمانوں کے جو اجلاس لندن میں بلائے اور جنہیں گول میز کانفرنس کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ان میں علاوہ بعض دیگر مسلمان لیڈروں کے آپ بھی برابر شامل ہوتے رہے اور لندن میں آپ نے کا رہائے نمایاں سرانجام دیئے۔مجھے خوب یاد ہے کہ ان ایام میں جو خبر میں اخبارات میں آتی تھیں ان سے ظاہر ہوتا تھا کہ لندن کی پرائیوٹ مجالس میں عوام ہندوؤں کی سیاسی پوزیشن سمجھنے کیلئے مسٹر گاندھی کو اور مسلمان قوم کا نقطہ نظر معلوم کرنے کیلئے آپ کو دعوت دیا کرتے تھے۔گول میز کانفرنس میں آپ نے جو شاندار تقریریں کیں اور بے مثال تدبر کا ثبوت دیا اس سے ہندوستان کے ہند و مسلمان لیڈروں کی نگا ہیں آپ کی طرف اٹھنا شروع ہوئیں اور انگریز حکام نے بھی محسوس کیا کہ ہندوستان کا نظم ونسق چلانے کے لئے آپ جیسے مدبروں کے تعاون کی انہیں بے حد ضرورت ہے۔چنانچہ باوجود شدید مذہبی مخالفت کے ۱۹۳۵ء میں آپ کو ہندوستان کے وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل میں لے لیا گیا اور کئی سال تک متعدد محکموں کے انچارج رہے۔اس اثناء میں آپ کو کئی مرتبہ یورپ اور دوسرے ممالک میں