لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 340
340 ہیں۔چنانچہ حلقہ ہذا میں آپ نے بطور سیکرٹری اصلاح و ارشاد سیکرٹری امور عامہ اور زعیم انصار اللہ کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔آخر الذکر عہدہ کے فرائض آپ اب بھی سرانجام دے رہے ہیں۔اولاد: عبدالجبار خاں۔عبدالوہاب خاں۔عبدالحکیم خاں۔عائشہ بیگم۔محترم ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے ولادت : ۱۸۹۲ء بیعت: جب سے ہوش سنبھالی محترم ملک غلام فرید صاحب نے میٹرک تک تعلیم قادیان میں حاصل کی۔بی۔اے کرنے کے بعد 1919ء میں زندگی وقف کی۔اس کے بعد قریب زمانہ میں ہی حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کو جو انگریزی رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے نائب ایڈیٹر تھے۔مزید دینی تعلیم کے حصول کے لئے عارضی طور پر فارغ کر دیا تو محترم ملک صاحب اس اہم کام پر مقرر کئے گئے۔مگر ابھی کام کرتے ہوئے چند ماہ ہی گذرے تھے کہ سخت مالی مشکلات کی وجہ سے کارکنان سلسلہ میں تخفیف کا سوال پیدا ہو گیا۔محترم ملک صاحب کے لئے یہ تجویز ہوا کہ انہیں کلکتہ میں بطور مبلغ بھجوا دیا جائے۔آپ نے بوساطت ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں عرض کی کہ سلسلہ کے اموال کی بچت یوں بھی ہوسکتی ہے کہ انہیں رخصت دے کر ایم۔اے کرنے کی اجازت دے دی جائے۔حضور نے فرمایا کہ دو شرائط کے ساتھ اجازت ہے ایک یہ کہ با قاعدہ کالج میں داخلہ لیں۔دوسرے ایم۔اے انگریزی میں کریں۔محترم ملک صاحب کا رجحان ” تاریخ میں ایم۔اے کرنے کا تھا مگر حضرت اقدس کے ارشاد کے ماتحت انگریزی میں ایم۔اے کرنے کے لئے کالج میں داخلہ لے لیا۔اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہوا کہ حضرت اقدس کی دعاؤں اور توجہ سے ایم۔اے انگریزی کرنے میں کامیاب ہو گئے اور پھر ریویو آف ریلیجنز اور سن رائز کے کئی سال تک کامیاب ایڈیٹر ر ہے۔تقسیم ملک کے بعد حضرت مولوی شیر علی صاحب جو انگریزی قرآن مجید کے مترجم تھے وفات پا گئے تو آپ جو پہلے بطور معاون کام کر رہے تھے اس کام کے انچارج مقرر کئے گئے اور یہ امر باعث