لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 326 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 326

326 وہ پہلے پیر جماعت علی شاہ صاحب کے مرید تھے۔ایک دن انہوں نے شاہ صاحب سے پوچھا کہ حضرت مرزا صاحب کے دعوی کی نسبت آپ کی کیا رائے ہے؟ شاہ صاحب نے جواب دیا کہ وہ کوڑا ہے یعنی نعوذ باللہ من ذلک جھوٹا ہے۔جب حافظ صاحب نے اس کی دلیل دریافت کی تو شاہ صاحب نے کہا کہ مرشد سے بحث نہیں کیا کرتے۔اس پر آپ خاموش ہو گئے۔مگر چند دن کے بعد حافظ صاحب نے شاہ صاحب کی دعوت کر دی اور حضرت مولوی مبارک علی صاحب جو اس وقت صدر سیالکوٹ میں اکیلے احمدی تھے ان کو بھی بلا لیا۔چند اور دوست بھی شریک دعوت ہوئے۔پیر صاحب اور مولوی صاحب آپس میں حیات و وفات مسیح علیہ السلام پر بحث کرتے رہے۔محترم بابو صاحب فرماتے ہیں۔میں نے بھی بڑے غور سے یہ بحث سنی۔میں گو اس وقت زیادہ نہیں سمجھتا تھا۔مگر میرا تاثر یہی تھا کہ پیر صاحب کے دلائل کمزور ہیں۔چنانچہ اس بحث کے دوسرے ہی دن اخویم حافظ صاحب اور مولوی عبدالواحد صاحب میں بھی حال کراچی نے بذریعہ خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی۔جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے محترم بابو صاحب نے بھی ۱۹۰۳ ء میں بذریعہ خط بیعت کر لی۔چنانچہ الحکم نمبر ۲۳ جلدے مورخہ ۱۷۔اگست ۱۹۰۳ء میں آپ کی بیعت کا اعلان بھی شائع ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت آپ نے پہلی مرتبہ مارچ 1901ء میں قادیان جا کر کی۔خلافت اولی میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے آپ کو صدر انجمن کا آنریری طور پر آڈیٹر مقرر کیا اور اسی زمانہ میں آپ نے حضور کی اجازت سے خطبات نور کے دو حصے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ڈائری ۱۹۰۱ء کی شائع کی۔خلافت ثانیہ میں آپ کو خدمت سلسلہ کا بہت موقعہ ملا۔جماعت لاہور میں بھی اور صدرانجمن میں بھی۔اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ پٹیالہ میں کچھ عرصہ ملازمت کے بعد آپ کا تبادلہ لا ہور میں ہو گیا۔لاہور میں آپ دسمبر 1910ء میں تشریف لائے۔آپ فرماتے ہیں کہ اس زمانہ میں لاہور میں سرگرم کارکن صرف حضرت قریشی محمد حسین صاحب مفرح عنبری والے تھے۔مگر جب چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب امیر مقرر ہوئے تو آپ کو سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ان ایام میں دو ہی عہدے تھے۔پریذیڈنٹ اور سیکرٹری۔لیکن کچھ عرصہ بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے زمانہ میں جب نظارتیں قائم ہوئیں تو پھر ہر نظارت کے لئے الگ الگ سیکرٹری مقرر کئے گئے۔