لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 325 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 325

325 میں دے دی تھی۔مگر باوجود درخواست کے آپ کو پہلی ملازمت سے یوم درخواست سے سولہ ماہ بعد اپریل ۱۹۳۵ء میں ریٹائر کیا گیا۔۱۰۔اپریل ۱۹۳۵ء ہی کو آپ اس کمپنی میں حاضر ہو گئے۔جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک کام کر رہے ہیں اور جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا کرتے چلے جائیں گے۔آپ کے والد بزرگوار چوہدری نبی بخش صاحب قوم چوہان سکنہ موضع گوندل تحصیل رنبیر سنگھ پورہ ریاست جموں کے باشندہ تھے۔موضع مذکور سیالکوٹ سے نومیل کے فاصلہ پر واقع ہے۔بسلسلہ ملازمت سیالکوٹ چھاؤنی میں مقیم رہے پہلے کرایہ کے مکان میں تھے کچھ عرصہ بعد اپنا مکان بنالیا۔پندرہ سولہ مکانات کرایہ پر دینے کے لئے بھی بنالئے جو مستقل ماہوار آمد کا ذریعہ بن گئے۔والدہ مکرمہ میرٹھ کی رہنے والی ہندوستانی تھیں جو غالباً عذر کے بعد اپنے والدین کے ساتھ میرٹھ سے ہجرت کر کے سیالکوٹ آگئی تھیں۔یہیں ان کی شادی ہوئی اور ۸۰ سال سے زیادہ عمر پا کر ۲۲ نومبر ۱۹۱۸ء کو سیالکوٹ ہی میں وفات پائی۔فانا لله و انا اليه راجعون۔آپ کے والد صاحب بھی ۹۰ سال کی عمر پا کر اکتوبر ۱۹۳۵ء میں سیالکوٹ میں ہی فوت ہوئے۔محترم بابو صاحب کے دو بھائی تھے۔جن کے نام یہ ہیں۔حافظ عبد العزیز صاحب اور مکرم عبدالحکیم صاحب۔عبدالحکیم صاحب تو لا ولد فوت ہو گئے البتہ حافظ عبدالعزیز صاحب کثیر الاولاد ہوئے۔الحاج چوہدری شبیر احمد صاحب بی۔اے واقف زندگی وکیل المال تحریک جدید آپ ہی کے فرزند ہیں۔شبیر صاحب محترم بابو صاحب کے بھتیجے بھی ہیں اور داماد بھی۔محترم بابو صاحب کے تین لڑکے اور چارلڑ کیاں بقید حیات ہیں۔محترم چوہدری عبدالمجید صاحب کا رکن دفتر محاسب ربوہ آپ ہی کے فرزند ہیں۔آپ کے خاندان میں سب سے پہلے محترم حافظ عبد العزیز صاحب نے جنوری ۱۸۹۶ء میں بیعت کی۔آپ بھی اپنے آپ کو اسی وقت سے احمدی سمجھتے تھے۔مگر با قاعدہ بیعت آپ نے جون ۱۹۰۳ء میں کی۔آپ کے بعد آپ کے بڑے بھائی عبدالحکیم صاحب بھی بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمد یہ میں داخل ہو گئے۔آپ کی والدہ مرحومہ نے حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کے زمانہ میں اور والد مرحوم نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے زمانہ میں بیعت کی۔فالحمد للہ علی ذلک آپ اپنے بھائی حافظ عبدالعزیز صاحب کی بیعت کا واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ