لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 18 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 18

18 پہلے کے تھے حتی کہ میرے عقیقہ میں جن دوستوں کو شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی ان میں میاں چراغ دین صاحب بھی تھے۔اتفاقاً اس دن سخت بارش ہو گئی۔وہ سناتے تھے کہ ہم باغ تک پہنچے مگر آگے پانی ہونے کی وجہ سے نہ جا سکے اور وہیں سے ہمیں واپس لوٹنا پڑا۔پس اس جگہ کی جماعت کی بنیا دا ایسے لوگوں سے پڑی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس وقت سے اخلاص رکھتے تھے جب آپ نے دعویٰ بھی نہیں کیا تھا اور براہین لکھی جا رہی تھی۔پھر خدا تعالیٰ نے ان کے خاندانوں کو ترقی دی اور وہ اخلاص میں بڑھتے چلے گئے۔میاں چراغ دین صاحب اور میاں معراج دین صاحب کے خاندان کے اس وقت درجنوں آدمی ہیں اور ان میں سے بہت سے لاہور میں ہی ہیں۔میاں مظفرالدین صاحب جو پشاور کی جماعت کے امیر تھے وہ میاں تاج دن صاحب کے بیٹے تھے۔اسی طرح اور کئی پرانے خاندانوں کی اولادیں یہیں ہیں۔مگر افسوس ہے کہ اگلی نسل میں اب وہ پہلی سی بات نہیں رہی۔ان میں کچھ تو مخلص ہیں اور کچھ کمزور ہو گئے ہیں۔جو لوگ مخلص ہیں ان میں کچھ تو ایسے ہیں جو خواہش رکھتے ہیں کہ اپنے آپ کو روشناس کراتے رہیں اور کچھ مخلص تو ہیں لیکن یہ احساس ان کے دلوں سے مٹ گیا ہے کہ سلسلہ کے ساتھ ان کا اہم تعلق ہے۔وہ اپنی جگہ پر مخلص ہیں مگر اپنے آپ کو آگے لانے اور روشناس کرانے میں کوتا ہی کرتے ہیں۔حالانکہ کسی جماعت کے بنیادی لوگوں میں سے ہونا بڑے فخر کی بات ہوتی ہے۔جہاں یہ بات بُری ہوتی ہے کہ انسان جماعت کے متعلق یہ خیال کرے کہ وہ میری چراگاہ ہے اور اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے وہاں یہ بات بھی بُری ہوتی ہے کہ کوئی شخص ایک سچی جماعت کے ابتدائی لوگوں میں سے ہوا اور پھر وہ اس پر فخر محسوس نہ کرے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ اس چیز کی قدر اس کے دل میں نہیں۔ورنہ جن لوگوں کے دلوں میں قدر ہوتی ہے جہاں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے کچھ کام کیا ہے تو سلسلہ پر احسان نہیں کیا بلکہ سلسلہ نے ان پر احسان کیا ہے وہاں وہ اپنی اہمیت کو بھی خوب سمجھتے ہیں۔غرض لاہور کی جماعت کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی زمانہ میں آپ پر ایمان لائے اور اگر وہ نہیں تو ان کے رشتہ دار ایسے موجود ہیں جو صحابی ہیں۔خواہ وہ ایسے مقام پر نہیں کہ دعوے سے پہلے انہوں نے آپ کی مدد کی ہومگر وہ ایسے مقام پر ضرور ہیں کہ وہ اس وقت ہوش والے تھے اور عقل والے تھے۔جب انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کیا۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ان لوگوں کے خاندانوں میں اب وہ جوش نہیں رہا جو پہلے ہوا