لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 131
131 انگریز تھا جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا تھا۔اس نے حضرت مسیح کی اشتہار میں تصویر دیکھ کر اور مرہم عیسی کے بڑے اشتہار پوسٹر اور ایک انگریزی اشتہار جو میں نے الگ بطور ہینڈ بل کے تقسیم کیا ہوا تھا۔اس کو دیکھ کر وہ ایسا برہم ہوا۔اور غصے میں بھر گیا اور اسی غصے کی حالت میں اس نے کہا کہ اس اشتہار کا لکھنے والا کون ہے؟ میں حج کے سامنے حاضر ہوا۔مگر اس کو غصے کے اندر کچھ نظر نہ آیا۔پھر میں بیٹھ گیا۔پھر اس نے کہا کہ کس نے یہ اشتہار شائع کیا۔پھر میں اٹھ کھڑا ہوا۔اور میں نے کہا کہ یہ اشتہار میں نے شائع کیا ہے۔وہ اپنے غیظ وغضب میں اس قدر بھرا بیٹھا تھا کہ میں باوجود اس کے سامنے دو دفعہ پیش ہونے کے اس کو پھر بھی نظر نہ آیا کہ اشتہار دینے والا میں ہوں۔پھر اس نے تیسری دفعہ کہا کہ کون ہے جس نے یہ اشتہار شائع کیا ہے؟ پھر میں اٹھا تو میرے وکیل کالی پرسن نے حج کو مخاطب کیا اور کہا کہ کیا یہ عدالتیں ہیں۔کہ تین دفعہ میرا موکل کھڑا ہوا ہے اور اس نے کہا کہ میں نے یہ اشتہار دیا ہے مگر جج کو نظر تک نہیں آیا۔اس وقت تمام گیلری کے اندر ایک شور مچ گیا۔اور اس کے ساتھ ایک دوسرا حج اس مقدمے کو سننے کے لئے آ گیا۔اس وقت حضرت امام سیدنا مسیح موعود کا لکھا ہوا وہ مضمون پڑھ کر سنایا گیا جس کا ترجمہ خواجہ کمال الدین صاحب نے بنا کر دیا تھا کہ انجیل بتاتی ہے کہ حضرت مسیح کے صلیبی زخم تھے جو انہوں نے اپنے حواریوں کو صلیب پر سے زندہ اتر آنے کے بعد دکھائے تھے اور حواریوں میں سے ایک حواری طبیب بھی تھا جس کا نام لوقا تھا۔الہام الہی کی بنا پر اس مرہم کو بنایا گیا تھا اور حضرت مسیح کے صلیبی زخم بھی اسی سے اچھے ہوئے تھے۔اس کے بعد اس بات پر بحث ہوئی کہ مرہم عیسی کا نام کچھ اور رکھ کر فروخت کیا جائے۔اس وقت ہم نے اپنے وکیلوں کو سمجھا دیا ہوا تھا کہ اگر کوئی ایسی بات پیش ہو جس سے مرہم کو دوسرے نام سے موسوم کرنے کے لئے حج اپنا فیصلہ لکھے تو ان کو بتا دیا جائے کہ اس طرح تو بہت سی دواؤں کے متعلق عدالت کو قانون بنانا پڑے گا۔آج عیسائی لوگ مرہم عیسی کے نام سے رنجیدہ ہوتے ہیں تو کل ہند و سوسائٹی گا ؤ زبان کے نام سے بھی رنجیدہ ہوگی اور حکومت لیجسلیٹو اسمبلی کو مندرجہ ذیل دواؤں کے نام بدلانے کے لئے ایک قانون نافذ کرنا پڑے گا کیونکہ ہندو لوگ گاؤ زبان اور گئو ونتی کا لفظ اپنے مذہب کے خلاف سمجھتے