لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 556
556 محترم با بوفضل دین صاحب سابق سپر نٹنڈنٹ ہائیکورٹ کا بیان ہے کہ جب حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی نے ایک بڑی مسجد تعمیر کرنے کا ارشاد فرمایا تو ساتھ ہی فرمایا۔انداز دس ہزار روپیہ میں جگہ کا بندوبست ہو جائے گا۔حضور کا یہ ارشادسن کر محترم شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت نے مجھے فرمایا کہ میری کارلو اور زمین کی خرید کیلئے فوراً چندہ جمع کرو۔میں نے محترم میاں غلام محمد صاحب اختر کو ساتھ لیا اور اللہ کا نام لے کر سب سے پہلے ہم محترم ڈاکٹر محمد بشیر صاحب کی کوٹھی واقعہ ڈیوس روڈ پہنچے۔انہوں نے ایک ہزار روپیہ کا چیک عنایت کیا۔پھر بعض اور دوستوں کے پاس گئے۔مغرب کی نماز سے قبل محترم شیخ بشیر احمد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پانچ ہزار روپے نقد اور پانچ ہزار کے وعدے پیش کر دیئے۔انہوں نے مغرب کی نماز کے بعد حضور کی خدمت میں یہ رقم اور وعدہ جات پیش کئے جن پر حضور نے خوشنودی کا اظہار فرمایا۔محترم شیخ عبدالحمید صاحب شملوی کا بیان ہے کہ فروری ۱۹۵۴ء میں محترم جناب چوہدری اسد اللہ خاں صاحب کے زمانہ امارت میں موجودہ جگہ خریدی گئی اور رجسٹری کروا کر اس کا قبضہ حاصل کر لیا گیا۔اس کا رروائی پر بیس ہزار روپے خرچ ہوئے۔اس جگہ کا رقبہ پانچ کنال اٹھارہ مرلے اور ایک سو چونسٹھ مربع فٹ ہے۔مارچ ۱۹۵۴ء میں حضرت امیر المومنین الصلح الموعود رضی اللہ عنہ نے اپنے دست مبارک سے اس مسجد کا سنگ بنیا درکھا اور حضور ہی نے اس کا نام ”دارالذکر رکھا۔۲۳ نومبر ۱۹۵۴ء سے سفید زمین پر چھپر ڈال کر نماز جمعہ پڑھنا شروع کی گئی اور پھر ۱۹۔دسمبر ۱۹۵۸ء سے مسجد کی تعمیر کا کام مسجد دارالذکر کمیٹی کے زیر انتظام شروع ہوا۔تعمیر مسجد پر زمین کی قیمت کے علاوہ فروری ۱۹۶۶ء کے اخیر تک تقریباً تین لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں اور تعمیر کا کام مکمل ہونے تک اخراجات کا انداز ہ پانچ لاکھ روپے کا ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مسجد کی تکمیل کے جلد سامان پیدا کرے۔آمین جماعت احمد یہ لاہور کا جلسہ سالانہ ۱۹۴۸ء جلسہ سالانہ قادیان کی یاد تازہ رکھنے کے لئے جماعت احمد یہ لاہور نے ۲۵ اور ۲۶ دسمبر ۱۹۴۸ء کو جلسہ سالانہ منعقد کیا۔اس جلسہ کی خصوصیت یہ تھی کہ اس مرتبہ جماعت احمدیہ کا مرکزی جلسہ ملتوی ہونے