لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 257
257 بھی کام کرنے کا موقعہ ملا۔ہجرت کے چند سال بعد حضرت اقدس کے ارشاد کے ماتحت لیہ میں زمینوں کے انتظام کیلئے گئے اور پھر نواں کوٹ لاہور میں رہائش اختیار کی اور یہیں وفات پا کر بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔اولاد: سردار بیگم اہلیہ چوہدری عبدالرحیم صاحب صدر حلقہ اسلامیہ پارک، حمیدہ بیگم کو کب ایوانی مرحوم محترم مولوی محب الرحمن صاحب ولادت : ۲۔جولائی ۱۸۸۹ء بیعت : ۹۹ - ۱۸۹۸ء محترم مولوی محب الرحمن ولد میاں حبیب الرحمن صاحب دہلی دروازہ لاہور نے فرمایا: میری بیعت ۱۸۹۸ء یا ۱۸۹۹ء کی ہے۔خاکساراپنے والد ماجد کے ہمراہ ۱۸۹۸ ء یا ۱۸۹۹ء میں دارالامان حاضر ہوا۔شام کا کھانا مسجد مبارک کی چھت پر حضور کے ہمراہ کھایا۔ان دنوں خاکسار پر ہیزی کھانا کھاتا تھا۔اس لئے حضرت اقدس نے خاص طور پر خاکسار کے متعلق دریافت فرمایا کہ محب الرحمن کے واسطے کھانا آیا ہے۔خاکسار نے دیکھا کہ لوگ حضور کے آگے سے پس خوردہ اٹھا لیتے ہیں جس میں میرے والد صاحب بھی شریک تھے تو اس وقت کی عمر کے لحاظ سے مجھے یہ بات ناگوار گذری اور خلاف تہذیب معلوم ہوئی کیونکہ حضور نے ابھی کھا نا ختم نہ فرمایا تھا۔والد صاحب کا معمول تھا کہ ہر روز صبح کے وقت حضور کی خدمت میں حاضر ہوتے۔حضرت اقدس اس کمرہ میں جو مسجد مبارک کے ساتھ والی کوٹھری کے پہلو میں بڑا دالان ہے جس میں حضور بیٹھ کر تصنیف کا کام کرتے تھے۔پردہ کرا کر بلا لیتے تھے۔خاکسار بھی ہمراہ ہوتا تھا۔میں نے دیکھا کہ حضرت والد صاحب حضرت اقدس کا بے حد احترام کرتے تھے۔ایک دن حضرت والد صاحب نے دوران گفتگو میں عرض کیا کہ آیا زیور پر بھی زکوۃ ہوتی ہے۔فرمایا ز کوۃ تو نہیں مگر اچھا ہے کہ کسی غریب کو کسی ضرورت کے موقعہ پر عاریہ دے دیا جائے۔