لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 227 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 227

227 کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے ان کو ابتداء ہی سے اس بات کی توفیق عطا فرمائی کہ وہ ہر قسم کی ٹھو کر اور ابتلا سے بچے رہے۔حالانکہ اثر ڈالنے کے سامان ان کے اردگرد بہت زیادہ تھے۔مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب وغیرہ سے ان کی دوستیاں اور تعلقات تھے۔اور خود غریب آدمی تھے۔اور غریب آدمی بڑے آدمی کے تعلقات کے اثر کو بہت جلد قبول کر لیا کرتا ہے مگر باوجود ہر قسم کی شورش کے وہ محفوظ رہے۔جب اختلاف ہوا۔اور حضرت خلیفہ اول فوت ہوئے تو شروع میں حکیم محمد حسین صاحب قریشی کو خواجہ صاحب نے اپنی مجلسوں میں بلا نا شروع کیا۔اس پر بابو غلام محمد صاحب ہمیشہ ان سے کہتے رہے کہ دیکھنا۔بُرے اثر سے بچ کر رہنا۔اس طرح انہیں نیکی پر اکساتے رہتے۔حالانکہ وہ تعلیم یافتہ تھے اور یہ معمولی پریس میں ملازم تھے۔مگر اس کے باوجود انہیں ہوشیار کرتے رہتے کہ ایسا نہ ہو ٹھوکر لگ جائے۔اللہ تعالیٰ نے ان کا انجام بخیر کر دیا۔اور ہر قسم کے فتنوں کا مقابلہ کر کے وہ ایسے وقت میں فوت ہوئے جب کہ بہت سے نشانات انہوں نے دیکھ لئے اور سلسلہ کی اشاعت اور اس کی ترقی بھی دیکھ لی۔۳۴ے محترم ڈاکٹر عبید اللہ خاں صاحب کا بیان ہے کہ حضرت بابو غلام محمد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متعدد مرتبہ فرمایا کہ جب ہم لاہور میں آتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اپنے گھر میں ہیں لیکن بٹالہ پہنچ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہم بہت دور آ گئے ہیں۔اولاد: میاں غلام محمد صاحب ثالث اور امتہ اللہ بیگم مرحومہ جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے امیر غیر مبائعین ولادت ۱۸۷۴ء بیعت : مارچ ۱۸۹۷ء وفات : ۱۳۔اکتوبر ۱۹۵۱ء جناب مولا نا محمد علی صاحب ایم۔اے۔ایل۔ایل۔بی نے جناب خواجہ کمال الدین صاحب کی تبلیغ سے مارچ ۱۸۹۷ء میں قادیان جا کر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔جون ۱۸۹۹ء میں ہجرت کر کے قادیان چلے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں آپ نے تحریری