لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 222 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 222

222 پھر مولوی عبد الکریم صاحب نے میرے کان اور بٹن حضور کو دکھائے اور کہا۔حضور ! یہ سارا سونا پہنے ہوئے ہے۔فرمایا۔کہتے ہیں حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کے کوٹ کے لکھے سونے کے تھے اور کوٹ ستر روپے گز کا تھا۔بلکہ بعض اوقات سو روپیہ گز کا کپڑا بھی پہنتے تھے۔کسی نے ان کو کہا کہ یہ تو تبذیر ہے فرمایا۔من حرم زينة الله التى اخرج لعباده والطيبات من الرزق۔پھر فرمایا۔آہستہ آہستہ سب باتیں خود بخود کر نے لگ جائیں گے۔چنانچہ بعد میں میں نے سونا اتار دیا۔میری ایک ٹوپی تھی جو سیکنڈ ہینڈ میں نے تمہیں روپوں میں بیچی تھی۔۱۱۔گورداسپور میں کرم دین سکنہ بھیں والے مقدمہ کے دوران میں چند ولال مجسٹریٹ کے وقت حضور نے ایک مرتبہ فرمایا کہ یہ شخص بڑا بد باطن ہے۔اس کے اندرونے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔جب سامنے آتا ہے تو ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور بڑی لجاجت سے پیش آ کر کہتا ہے کہ حضور! میرا عہدہ ہی کچھ اس قسم کا ہے کہ میں قدموں پر گر نہیں سکتا لیکن دوسری طرف اس کا یہ حال ہے کہ سارا دن بٹھا کر کہہ دیتا ہے کہ کل تشریف لاویں۔روزانہ ایسا ہی کرتا ہے۔آتما رام کی عدالت میں جب حکم سنانے کا وقت آیا تو اس وقت بہت سی پولیس بلوائی گئی تھی۔چھڑکاؤ کروایا گیا تھا اور ساری کچہری کو پولیس نے محصور کر رکھا تھا۔ان حالات کو دیکھ کر خواجہ کمال الدین صاحب نے یہی مطلب لیا کہ یہ شخص سزا دینے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے اور مجھے کہا کہ حضرت صاحب کی خدمت میں میرا یہ پیغام پہنچاؤ کہ یہ شخص بدی پر تلا ہوا نظر آتا ہے۔اگر حضور حکم دیں تو تین وکلاء بلوا لئے جائیں۔احمد شاہ اور مولوی فضل دین لاہور سے اور تیسرا میں ہوں۔ایک کو ڈویژنل کورٹ میں بھیج دیا جائے۔دوسرے کو گورنر کے پاس جو دورے پر ہے اور تیسرا میں یہاں رہتا ہوں۔جب میں نے حضور سے جا کر یہ بات بیان کی تو حضور بہت مسکرائے اور فرمایا۔ان سے جا کر کہو کہ آج تک ہم آپ کی قانونی باتوں کی اقتداء کرتے رہے۔اب خدا پر چھوڑ دو۔میں نے جا کر ایسا کہہ دیا۔خواجہ صاحب بہت پژمردہ ہو کر نیچا سر کر کے کھڑے ہو گئے۔جب میں نے خواجہ صاحب کو حضور کی یہ بات پہنچائی تو خواجہ صاحب کچہری سے باہر تھے۔مگر میری بات سن کر ذرا تامل کر کے خواجہ صاحب نے جرات کی اور دروازہ پر جو تھانیدار کھڑا تھا اس کی بغل میں سے نکل کر عدالت کے اندر داخل ہو گئے اور اندر جا کر مجسٹریٹ کو کہا کہ کیا آپ نے حکم دیا ہے کہ اندر کوئی نہ آئے حتی کہ وکیل بھی اندر نہ آئے۔اس