لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 197 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 197

197 علیہ السلام کی کتاب ” ازالہ اوہام مطالعہ کیلئے دی جسے پڑھ کر آپ کے سارے شکوک رفع ہو گئے۔اور آپ نے ۱۸۹۶ء میں احمدیت قبول کر لی۔قبول احمدیت کے اگلے سال ہجرت کر کے قادیان پہنچ گئے۔وہاں پر آپ کافی عرصہ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں ٹیچر رہے۔چنانچہ آپ ان خوش قسمت اسا تذہ میں سے ہیں جنہیں سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کوسکول میں پڑھانے کا شرف حاصل ہوا۔ایک عرصہ تک آپ نے قادیان میں رسالہ ریویو آف ریلیجنز “ کے مینجر کے طور پر بھی کام کیا۔صدرانجمن میں نائب محاسب اور سپر نٹنڈنٹ دفاتر کے طور پر بھی خدمت کرنے کا موقع ملا مگر خلافت ثانیہ کی ابتداء میں جناب مولوی محمد علی صاحب اور جناب خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر کی دوستی کے باعث ان کے ساتھ مل گئے۔لیکن ۱۹۴۴ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مصلح موعود ہونے کا اعلان پڑھ کر پھر توجہ کی اور ۱۰۔مارچ ۱۹۴۴ ء کو خلافت ثانیہ کے ساتھ منسلک ہو گئے۔ربوہ میں کئی سال تک افسر امانت تحریک جدید کے فرائض سرانجام دیئے۔ریٹائر ہونے کے بعد چند سال لاہور میں گزارے اور ۹۔اگست ۱۹۶۵ء کو ساڑھے گیارہ بجے قبل دو پہر ۹۰ سال کی عمر میں لاہور ہی میں وفات پائی۔فانا للہ و انا اليه راجعون - ای روزرات کے ساڑھے آٹھ بجے جنازہ ربوہ لے جایا گیا اور گیارہ بجے کے قریب بہشتی مقبرہ کے قطعہ خاص صحابہ میں دفن گئے گئے۔بہت متقی پرہیز گار اور خدا ترس بزرگ تھے۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز جلسہ سالانہ کے ایام میں اپنی تقریر سے قبل حضرت ماسٹر صاحب سے قرآن کریم کی تلاوت کر وایا کرتے تھے۔اولاد : ۶ بیٹے ۵ بیٹیاں اور کثیر التعداد پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں آپ کی یاد گار ہیں۔حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب در دایم۔اے ولادت :۱۸۹۲ء بیعت: پیدائشی وفات: ۷۔دسمبر ۹۵۵اء عمر :۶۳ سال حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بچپن کے دوستوں میں سے تھے۔لاہور میں جب حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی امارت کے ابتدائی زمانہ میں احمد یہ ہوسٹل کی بنیاد پڑی تو ان ایام میں آپ ایم۔اے عربی کرنے کیلئے