لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 186 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 186

186 یہاں لاہور میں میاں صاحب موصوف سارے تبرکات ہمارے گھر میں بھی لائے تھے اور ہمارے بچوں نے دیکھے تھے۔اب یہ تبرکات ان کے فرزندوں کے پاس محفوظ ہیں۔حضرت میاں عبد الغفار صاحب ۱۹۴۷ء میں تقسیم برصغیر کے بعد لاہور میں تشریف لے آئے تھے۔اور مسجد وزیر خاں کے پاس ایک حویلی میں سکونت اختیار کی تھی۔بڑی باقاعدگی کے ساتھ باجماعت نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں تشریف لاتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ آپ کو اس قدر محبت تھی کہ حضور کی کئی ایک تحریریں خصوصاً کشتی نوح کی زبانی یاد کر رکھی تھیں اور مختلف اجتماعات کے مواقع پر سنایا کرتے تھے اور اس جذبہ کے ساتھ سناتے تھے کہ حاضرین پر رقت طاری ہو جایا کرتی تھی۔آپ بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ خاص صحابہ میں دفن ہیں۔اللهم نور مرقدہ۔آمین ثم آمین۔اولاد: محمد انور محمد اکرم محمد اسلم۔زبیدہ بیگم۔سعیدہ بیگم۔حضرت میاں سراج دین صاحب میاں عمر دین صاحب ولادت : مارچ ۱۸۵۹ء بیعت : ۱۸۹۳ء وفات : ۲۸۔جولائی ۱۹۲۸ء حضرت میاں محمد شریف صاحب ریٹائر ڈالی۔اے سی نے بیان فرمایا کہ میرے والد حضرت میاں سراج دین صاحب اور حضرت میاں چراغ دین صاحب نے خلیفہ محمد صدیق صاحب آف آلو مہار کی بیعت کی ہوئی تھی۔پھر اہلحدیث بھی تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ تعلق تھا۔اس لئے حضرت اقدس کے دعویٰ کے معا بعد اس خیال سے بیعت نہ کی کہ پہلے ایک بزرگ کی بیعت کی ہوئی ہے۔مگر جب کچھ مدت کے بعد حضرت اقدس سے مسئلہ پوچھا تو حضور نے فرمایا جس شخص سے آپ نے بیعت کی ہوئی ہے۔اگر وہ نیک آدمی ہے تو آپ کی بیعت نور علی نور ہوگی ورنہ وہ بیعت فسخ ہو جائے گی۔اور ہماری بیعت رہ جائے گی۔اس پر آپ نے بیعت کر لی۔پرانے خاندانی ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ والد صاحب نے مارچ ۱۸۹۰ء میں ڈسٹرکٹ جج لاہور کے پاس درخواست دی تھی کہ میرے بھائی میاں معراج دین اور میاں تاج دین نابالغ ہیں اس لئے مجھے ان کا گارڈین مقرر کیا جائے۔آپ کا بیس سال کی عمر میں چھانگا مانگا کے جنگل میں ایک انگریز فارسٹ آفیسر کے ماتحت