لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 156
156 حضرت صوفی محمد علی صاحب ولادت: ۱۸۵۹ء بیعت: ابتدائی ایام میں وفات : ۵۔ستمبر ۱۹۱۴ء حضرت صوفی محمد علی صاحب ریلوے ایگزامیز آفس میں کلرک تھے۔بہت عبادت گذار نیک اور مخلص احمدی تھے۔جلال پور جٹاں ضلع گجرات کے باشندے تھے۔بہت ابتدائی زمانہ میں بیعت کی۔ان کے فرزند ارجمند محترم جناب صوفی محمد رفیع صاحب ریٹائر ڈ ڈی۔ایس۔پی سکھر میں امیر جماعت احمدیہ ہیں۔ان کا نام جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شامل ہونے والوں کی فہرست مندرجہ ”آئینہ کمالات اسلام میں درج ہے۔۳۱۳ اصحاب کی فہرست میں ۲۱۲ نمبر پر مندرجہ نام منشی محد علی صاحب سے غالباً آپ ہی مراد ہیں۔واللہ اعلم بالصواب۔صاحب کشف والہام بزرگ تھے۔منارۃ اسی پر آپ کا نام کنندہ ہے۔حضرت حکیم محمد حسین صاحب قریشی " موجد مفرح عنبری ولادت : ۳ مئی ۱۸۶۹ء بیعت : ۱۸۹۲ء کے بعد وفات : ۱۱۔ذی الحجہ بمطابق ۱۲۔اپریل ۱۹۳۲ء بروز پیر عید کے دوسرے روز حضرت حکیم محمد حسین صاحب قریشی ۳۔مئی ۱۸۲۹ء کو پیر کے دن لاہور میں پیدا ہوئے۔آپ لاہور کے ایک پرانے متمول خاندان کے چشم و چراغ تھے۔آپ کے دادا جناب محمد بخش صاحب اور والد مولوی الہی بخش صاحب لاہور میں پشم وریشم کے سرکردہ تاجروں میں سے تھے۔آپ کے دادا محمد بخش صاحب کا رنگ چونکہ بہت گورا تھا اور گورے کو پنجابی میں چٹا کہتے ہیں اس لئے وہ چٹو“ نام سے مشہور تھے۔حضرت قریشی صاحب نے ابتدائی ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔چنانچہ آپ کا نام ۳۱۳ صحابہ کی فہرست میں ۲۷۱ نمبر پر درج ہے۔آپ نے طب کی تعلیم حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب سے لا ہور اور سرینگر میں حاصل کی۔اس طرح آپ کو بہت قریب سے حضرت مولوی صاحب کو دیکھنے کا موقعہ ملا۔چنانچہ جب آپ نے سنا کہ حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب جیسے متقی اور عالم فاضل انسان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی ہے تو آپ بھی بہت جلد حضور کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہو گئے۔باپ اور دادا