لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 87 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 87

87 نے ان سے کہا کہ مولوی صاحب آپ کتاب پڑھیں بھی تو سہی۔وہ کہنے لگے۔مجھ سے اس کتاب میں سے کوئی بات پوچھ لیجئے۔حضرت خلیفہ اول نے کوئی بات پوچھی تو کہنے لگے۔یہ بات اس کتاب کے فلاں صفحہ پر فلاں سطر میں لکھی ہے۔لاہور میں گئی بازار والی مسجد پہلے ہماری ہوا کرتی تھی۔مگر بعد میں خواجہ کمال الدین صاحب کی غفلت کی وجہ سے غیر احمدیوں کے پاس چلی گئی۔اس مسجد میں مولوی غلام حسین صاحب نماز پڑھایا کرتے تھے مگر بہت ہی غریب تھے۔بعض دفعہ اس قسم کی حالت بھی آ جاتی۔کہ انہیں کئی کئی وقت کا فاقہ ہو جاتا لیکن وہ اس بات کو کہیں ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے۔کہ مجھے سات یا آٹھ وقت کا فاقہ ہو چکا ہے۔انہوں نے اپنی انتریوں کو کچھ اس قسم کی عادت ڈالی ہوئی تھی کہ اتنے دنوں کے فاقہ کے بعد جب انہیں کھانا ملتا تو سات سات آٹھ آٹھ آدمیوں کا کھانا ایک ہی وقت کھا جاتے۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ایک دن ان کے علم کو دیکھ کر شوق پیدا ہوا کہ میں ان کی کچھ خدمت کروں۔چنانچہ میں نے ان سے کہا کہ مولوی صاحب! مجھے بھی اپنی خدمت کا موقع دیں۔اور اگر کوئی خواہش ہو تو بیان فرمائیں تا کہ میں آپ کی اس خواہش کو پورا کروں فرماتے تھے میں نے جب یہ بات کہی تو تھوڑی دیر خاموش رہ کر اور کچھ سوچ کر کہنے لگے۔جی چاہتا ہے۔میرے لئے ایک ایسا مکان بنا دیا جائے جس کی دیوار میں کتابوں کی بنی ہوئی ہوں گویا نئی کتابوں کی ایک چار دیواری ہو جس کے اندر مجھے بٹھا دیا جائے پھر کوئی شخص مجھ سے یہ نہ پوچھے کہ تم نے روٹی بھی کھائی ہے یا نہیں۔بس میں کتا ہیں پڑھتا جاؤں اور ا تا رتا جاؤں۔جب رستہ بن جائے تو باہر نکل جاؤں۔باوجود اس قدر علم کے ان کا طرز بحث مباحثہ کا نہیں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ مقدمات کے سلسلہ میں گورداسپور میں مقیم تھے کہ آپ کی مجلس میں بحث مباحثہ کا ذکر شروع ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی غلام حسین صاحب سے پوچھا۔مولوی صاحب کیا آپ کو بھی کبھی بحث کرنے کا موقعہ ملا ہے یا نہیں ؟ مولوی صاحب فرمانے لگے جب میں نیا نیا پڑھ کر آیا تو لاہور میں میری خوب شہرت ہوئی۔انہیں دنوں