لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 86
86 قادیان جاتے تو حضرت طلیقہ اسیع الاول کی لائبریری میں داخل ہو جاتے اور کتا ہیں پڑھنا شروع کر دیتے۔حضرت خلیفۃ اصبح الاول ان کی خوراک وغیرہ کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے۔جب آپ کوئی کتاب پڑھنے کے لئے اٹھاتے تو پہلے عزرائیل کو مخاطب کر کے کہتے کہ اے عزرائیل ! تو بھی خدا کا بندہ ہے اور میں بھی خدا کا بندہ ہوں۔میری تم سے درخواست ہے کہ جب تک میں یہ کتاب نہ پڑھ لوں میری جان نہ نکالنا۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی موصوف کے متعلق جو کچھ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ ۱۳ مئی ۱۹۴۴ء کو بعد نماز مغرب مسجد مبارک قادیان میں بیان فرمایا تھاوہ آپ کی تعریف میں کافی و وافی ہے اور سند کی حیثیت رکھتا ہے۔حضور نے فرمایا : ”ہماری جماعت میں ایک بہت بڑے عالم اور نیک انسان ہوا کرتے تھے۔مولوی غلام حسین صاحب ان کا نام تھا۔وہ کہا کرتے تھے کہ مجھے تو حسرت ہی رہ گئی کہ کوئی دس بجے جمعہ پڑھا کرے۔مگر کوئی نہیں پڑھتا۔وہ بعض دفعہ سرکاری دفاتر میں کام کرنے والوں کو کہا کرتے تھے کہ اگر تمہیں دفتری مصروفیت کی وجہ سے جمعہ کے لئے وقت نہیں ملتا تو میرے پاس آ جایا کرو۔میں تمہیں دس بجے ہی جمعہ پڑھا دیا کروں گا۔ان کے اندر بہت ہی علمی شوق تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں سے حضرت خلیفہ اول اور ایک وہ گویا کتابوں کے کیڑے تھے۔بلکہ مولوی غلام حسین صاحب کو حضرت خلیفہ اول سے بھی زیادہ کتابوں کا شوق تھا۔ان کی وفات بھی اسی رنگ میں ہوئی۔کہ وہ کلکتہ کسی کتاب کے لئے گئے اور وہیں سے بیمار ہو کر واپس آئے اور فوت ہو گئے۔ان کا حافظہ اتنا زبر دست تھا کہ حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے۔میں نے انہیں ایک دفعہ ایک کتاب دی کہ اسے پڑھیں۔انہوں نے میرے سامنے جلدی جلدی اس کے ورق الٹنے شروع کر دئیے۔وہ ایک صفحہ پر نظر ڈالتے اور اسے الٹ دیتے۔پھر دوسرے پر نظر ڈالتے اور اسے چھوڑ دیتے۔حضرت خلیفہ اول خود بھی بہت جلدی پڑھتے تھے۔مگر آپ فرماتے تھے کہ انہوں نے اس قدر جلدی ورق الٹنے شروع کئے کہ مجھے خیال آیا کہ وہ شاید وہ کتاب پڑھ نہیں رہے۔چنانچہ میں