لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 77 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 77

77 تھا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنے مالک اور حی و قیوم خدا کے سپر د کر کے گھروں کو واپس لوٹ آئے۔فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اليه راجعون۔وكل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال والاکرام۔نے وہ تمام ریت بچھا دی۔اس کام سے فارغ ہونے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسدِ اطہر کو قبر میں اتارا گیا۔اس وقت بہت بڑا ہجوم قبر کے اردگر د جمع ہو گیا اور بیسیوں ہاتھ آپ کو قبر میں اتارنے کے ثواب میں شریک ہونے کے لئے بیتابی کے ساتھ آگے بڑھے۔حضرت خلیفہ ثانی بھی پاس ہی تھے اور حضور کے خاندان کے دوسرے افراد اور مخلصین بھی۔جب آپ کو قبر میں اتار دیا گیا تو پھر تختے رکھے گئے مگر انہیں کیلوں سے بند نہیں کیا گیا۔اس کے بعد کچی اینٹوں کی ڈاٹ لگا دی گئی۔چونکہ شام کا وقت ہو رہا تھا۔اس لئے اس وقت ہجوم میں سے دو اور احمدی راج بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔انہوں نے ایک طرف سے اور میں نے دوسری طرف سے ڈاٹ لگانی شروع کر دی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جلدی ہی تحمیل کو پہنچ گئی۔یہ گول ڈاٹ تھی جو کچی اینٹوں سے بنائی گئی۔’ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کا بیان ” اصحاب احمد میں یوں درج ہے کہ: قاضی عبد الرحیم صاحب نے پختہ اینٹوں کی ڈاٹ بنوائی اور جب حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے اسے نا پسند فرمایا مگر چونکہ شام کا وقت ہو چکا تھا اور باغ کے گھنے اور گنجان درختوں کی وجہ سے تاریکی اور بھی بڑھ گئی تھی اس لئے قاضی صاحب نے اس ڈاٹ کو ویسا ہی رہنے دیا اور مٹی ڈال دی گئی۔(اصحاب احمد جلد نہم صفحہ ۲۷۷) مستری مہر دین صاحب فرماتے ہیں کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ڈاٹ میں نے اپنے ہاتھ سے بنائی تھی اور کچی اینٹوں کی بنائی تھی۔پھر یہ بھی کیسے ہو سکتا تھا کہ حضرت خلیفہ اول ایک بات پر ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے اور قاضی صاحب ویسا ہی رہنے دیتے۔بہر حال کچی اینٹوں کی ڈاٹ بنائی گئی اور پھر مٹی ڈال دی گئی۔مکرم حکیم دین محمد صاحب کی روایت ہے کہ تدفین کے بعد کسی دوست نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے اس تابوت کی بچی کچھی لکڑیوں کے متعلق جو قبر کے پاس پڑی تھیں دریافت کیا کہ ان کو کیا کیا جائے۔آپ نے فرمایا ان کو پرے پھینک دو۔ایسا نہ ہو کہ لوگ ان کے ساتھ شرک کریں۔( الفضل ۲۷ مئی ۱۹۴۳ء) مزار مبارک پر آخری دعا بھی حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے ہی فرمائی۔تدفین سے فارغ ہونے کے بعد حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی فرط غم سے یہ کیفیت تھی کہ آپ سے چلا بھی نہیں جاتا تھا۔چنانچہ آپ بمشکل مکرم چوہدری فتح محمد صاحب سیال اور مکرم حکیم دین محمد صاحب کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر بہت آہستگی سے جب کہ آپ سے اپنا جسم بھی سہارا نہیں جاتا تھا اور قدم گھٹتے چلے آتے تھے اپنے گھر پہنچے۔یہی کیفیت دوسرے صحابہ کی بھی تھی اور ان میں سے ہر ایک بزبانِ حال یہی کہہ رہا تھا کہ حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد روئے گل سیر ندیدیم و بہار آخر شد