لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 70 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 70

70 وصال اکبر - ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کوئی گیارہ بجے کا وقت ہوگا کہ آپ کو پاخانے کی حاجت محسوس ہوئی اور آپ اٹھ کر رفع حاجت کیلئے تشریف لے گئے۔آپ کو اکثر اسہال کی تکلیف ہو جایا کرتی تھی۔اب بھی ایک دست آیا اور آپ نے کمزوری محسوس کی اور واپسی پر حضرت والدہ صاحبہ (یعنی حضرت ام المومنین علیہا السلام۔ناقل ) کو جگایا اور فرمایا کہ مجھے ایک دست آیا ہے جس سے بہت کمزوری ہوگئی ہے۔وہ فوراً اٹھ کر آپ کے پاس بیٹھ گئیں اور چونکہ پاؤں کو دبانے سے آرام محسوس ہوا کرتا تھا۔اس لئے آپ کی چار پائی پر بیٹھ کر پاؤں دبانے لگ گئیں۔اتنے میں آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور آپ رفع حاجت کیلئے گئے اور جب اس دفعہ واپس آئے تو اس قدر ضعف تھا کہ آپ چار پائی پر لیٹتے ہوئے اپنا جسم سہار نہیں سکے اور قریباً بے سہارا ہو کر چار پائی پر گر گئے۔اس پر حضرت والدہ صاحبہ نے گھبرا کر کہا کہ اللہ ! یہ کیا ہونے لگا ہے؟ آپ نے فرمایا یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا، یعنی اب وقت مقدر آن پہنچا ہے اور اس کے ساتھ ہی فرمایا۔مولوی صاحب ( یعنی حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب جو آپ کے خاص مقرب ہونے کے علاوہ ایک ماہر طبیب تھے ) کو بلواؤ۔اور یہ بھی فرمایا کہ محمود ( یعنی ہمارے بڑے بھائی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب) اور میر صاحب ( یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خسر تھے ) کو جگا دو۔چنانچہ سب لوگ جمع ہو گئے اور بعد میں ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو بھی بلوا لیا اور علاج میں جہاں تک انسانی کوشش ہو سکتی تھی وہ کی گئی۔مگر خدائی تقدیر کو بدلنے کی کسی شخص میں طاقت نہیں۔کمزوری لحظه بلحظہ بڑھتی گئی اور اس کے بعد ایک اور دست آیا جس کی وجہ سے ضعف اتنا بڑھ گیا کہ نبض محسوس ہونے سے رک گئی۔دستوں کی وجہ سے زبان اور گلے میں خشکی بھی پیدا ہوگئی۔جس کی وجہ سے بولنے میں دقت محسوس ہوتی تھی۔مگر جو کلمہ بھی اس وقت آپ کے منہ سے سنائی دیتا تھا وہ ان تین لفظوں میں محدود تھا۔اللہ۔میرے پیارے اللہ اس کے سوا کچھ نہیں فرمایا۔