لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 63 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 63

نہیں، 63 دوسرے صاحب جو خاص طور پر قابل ذکر ہیں وہ میاں فضل حسین صاحب بیرسٹر تھے جو بعد میں سر فضل حسین صاحب کہلائے اور کئی سال تک گورنمنٹ آف انڈیا میں وزارت کے جلیل القدر عہدہ پر متمکن رہے۔آپ ایک شریف النفس انسان تھے اور یوں تو تمام بنی نوع کے ہمدرد تھے لیکن مسلمان قوم کی مظلومیت تو ان سے دیکھی نہیں جاتی تھی۔آپ ۱۵ مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت اقدس کی ملاقات کے لئے حاضر ہوئے اور بعض سوالات کئے جن کے حضرت اقدس نے تسلی بخش جوابات دیئے۔مثلاً ایک سوال ان کا یہ تھا کہ اگر تمام غیر احمدیوں کو کافر کہا جائے تو پھر تو اسلام میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔حضور نے اس کے جواب میں فرمایا کہ: ہم کسی کلمہ گو کو اسلام سے خارج نہیں کہتے جب تک کہ وہ ہمیں کا فرکہہ کر خود کا فرنہ بن جائے آپ کو شاید معلوم نہ ہو۔جب میں نے مامور ہونے کا دعویٰ کیا تو اس کے بعد بٹالہ کے محمد حسین مولوی ابوسعید صاحب نے بڑی محنت سے ایک فتویٰ تیار کیا جس میں لکھا تھا کہ یہ شخص کافر ہے دجال ہے۔ضال ہے۔اس کا جنازہ نہ پڑھا جائے۔جو ان سے السلام علیکم کرے یا مصافحہ کرے یا انہیں مسلمان کہے وہ بھی کافر ہے۔اب سنو! یہ ایک متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جو مومن کو کافر کہے وہ کا فر ہوتا ہے۔پس اس مسئلہ سے ہم کس طرح انکار کر سکتے ہیں۔آپ لوگ خود ہی کہہ دیں کہ ان حالات کے ماتحت ہمارے لئے کیا راہ ہے؟ ہم نے ان پر کوئی فتوی نہیں دیا۔اب جو انہیں کا فر کہا جاتا ہے تو یہ انہیں کے کافر بنانے کا نتیجہ ہے۔ایک شخص نے ہم سے مباہلہ کی درخواست کی۔ہم نے کہا کہ دومسلمانوں میں مباہلہ جائز نہیں۔اس نے جواب میں لکھا کہ ہم تو تجھے پکا کا فر سمجھتے ہیں۔اس شخص (میاں فضل حسین صاحب) نے عرض کیا کہ وہ آپ کو کافر کہتے ہیں تو کہیں۔لیکن اگر آپ نہ کہیں تو کیا حرج ہے؟ فرمایا کہ جو ہمیں کا فرنہیں کہتا ہم اسے ہرگز کافر نہیں کہتے۔لیکن جو ہمیں کا فر کہتا ہے اسے کافر نہ سمجھیں تو اس میں حدیث اور متفق علیہ مسئلہ کی مخالفت لازم آتی ہے اور یہ ہم سے نہیں ہوسکتا۔”اس شخص نے کہا کہ جو کا فرنہیں کہتے ان کے ساتھ نماز پڑھنے میں کیا حرج ہے؟