لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 58
58 تل دھرنے کو جگہ باقی نہ تھی۔نیچے اور اوپر تمام کمروں اور صحن میں آدمی ہی آدمی نظر آتے تھے۔لیکچر شروع ہونے سے قبل ہی مزید داخلہ کے ٹکٹ جگہ کی قلت کے باعث بند کر دیئے گئے تھے۔مضمون کا ابتدائی حصہ حضرت حاجی الحرمین مولانا حکیم صاحب نے پڑھ کر سنایا اور آخری حصہ جناب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم نے۔لیکچر کے آخر میں صاحب صدر اور حاضرین مجلس کے اصرار پر حضرت مولوی صاحب نے آخری حصہ کے الہامات کا ترجمہ بھی سنایا مگر ترجمہ شروع کرنے سے قبل اس امر کی وضاحت فرما دی کہ جو تر جمہ آپ کریں گے اس سے کوئی صاحب حجت نہیں پکڑ سکیں گے کیونکہ قابل استناد تر جمہ صرف وہی ہو سکتا ہے جو حضرت اقدس کا اپنا کیا ہوا ہو۔حضور کے اس مضمون میں اسلام کے محاسن اس عمدگی اور دلکش انداز میں بیان کئے گئے تھے کہ اپنے تو الگ رہے غیروں نے بھی اس مضمون کی خوبیوں کا برملا اعتراف کیا۔چنانچہ پیسہ اخبار نے اپنی ۳ دسمبر ۱۹۰۷ ء کی اشاعت میں لکھا: مذہبی مباحثہ کا جلسہ بہ سر پرستی آریہ سماج شہر لاہور ۳ دسمبر کی شام کو سماج مذکور کے مندر واقعہ وچھو والی میں ٹھیک 4 بجے شروع ہوا اور ۱۰ بجے شب تک قائم رہا۔خلقت کا ہجوم پہلے دن سے کہیں زیادہ اور اس قدر عظیم تھا کہ مندر کا سارا حصہ دالان کمرے بالائی برآمدے اور سب سے اوپر والی چھت کے کنارے لوگوں سے بھر گئے اور کہیں تل دھرنے کو جگہ نہ رہی۔آخر کار ٹکٹ بند کر دینے پڑے۔اتنے بڑے اثر دھام میں خوش انتظامی تو دشوار تھی تاہم غنیمت ہے کہ کسی قسم کی بدمزگی نہ ہونے پائی۔کارروائی جلسہ کا افتتاح مسٹر روشن لال صاحب پریسیڈنٹ کی ایک مختصری تقریر سے ہوا اور پہلے گھنٹہ میں برہمو سماج کے ایک نمائندہ نے اپنا لیکچر بلند آواز سے پڑھا جو جملہ مذاہب کی کتب مقدسہ کو قابل قدر ماننے کے خیالات پر مشتمل تھا۔اس کے بعد حکیم مولوی نور الدین صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے بالترتیب ایک ایک گھنٹہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا ایک مطبوعہ لیکچر جس کی ضخامت ۴۶ صفحہ تھی سنایا۔جس کے ابتدائی حصہ میں اسلام کی عالمگیر تعلیم صلح جوئی وامن پسندی پر قابل تعریف بحث کی گئی تھی اور مذاہب غیر کو توجہ دلائی گئی تھی کہ اسلام جس طرح اپنے پیروؤں کو سابق پیغمبران کی تعظیم اور کتب ہائے مقدسہ کی تکریم کا حکم دیتا ہے اسی طرح وہ بزرگانِ اسلام کو نا گوار لفظوں میں یا دکر کے مسلمانوں کا دل نہ دکھا ئیں۔۳۵