لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 583
583 جوں جوں اس حملہ کی اطلاع پاکستان اور بیرون پاکستان میں پہنچی فدایان احمدیت نے ربوہ میں آنا شروع کر دیا۔بیرون پاکستان سے بھی حضور کی صحت دریافت کرنے کے لئے تاریں آنا شروع ہو گئیں۔ہفتہ عشرہ تو حضور کا علاج ربوہ ہی میں جاری رہا۔حضرت صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب کے علاوہ لاہور اور کراچی سے بھی ماہرین فن ڈاکٹر صاحبان تشریف لاتے رہے۔مگر بعد ازاں یہ ضروری سمجھا گیا کہ حضور خود لاہور تشریف لے جائیں۔چنانچہ ۹ - مارچ ۱۹۵۵ء کو حضور ایک مختصر قافلہ کے ساتھ لاہور تشریف لائے۔۵ ۱۴ - مارچ ۱۹۵۵ء کی اطلاع کے مطابق رات کے پہلے حصہ میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کو قریباً اڑھائی گھنٹے اچھی نیند آ گئی۔مگر اس کے بعد دورہ کی تکلیف کی وجہ سے نیند چاٹ رہی البتہ رات کے ایک بجے کے بعد پھر کچھ نیند آ گئی۔مگر یہ نیند بے چینی کی وجہ سے مسلسل نہیں تھی۔کچھ کمزوری بھی رہی اور نقرس کی تکالیف میں بھی کسی قدر زیادتی ہوگئی۔۱۵۶ ۱۶ - مارچ ۱۹۵۵ء کو دو بجے بعد دو پہر حضور رضی اللہ عنہ مع اہل بیت و خدام لا ہور سے واپس ربوہ تشریف لے گئے۔۱۵۷ بغرض علاج یورپ جانے کے لئے حضور کی لاہور میں تشریف آوری ۲۳ مارچ ۱۹۵۵ء سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ علاج کے لئے یورپ جانے کے ارادے سے مورخہ ۲۳ مارچ ۱۹۵۵ء کو لاہور میں تشریف لائے۔۲۴ - مارچ کو ربوہ کے امیر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اہل ربوہ کی طرف سے خیریت دریافت کرنے کیلئے حضور کی خدمت میں تار دیا۔اس کے جواب میں حضور نے جو تا رد یا درج ذیل ہے۔" آپ کی تار پہنچی۔میں خدا کے فضل سے پہلے سے بہتر ہوں۔احباب کا شکر یہ ادا کریں۔اور انہیں میر اسلام پہنچا دیں۔میں نے یہاں لاہور میں ڈاکٹروں سے مشورہ کیا ہے اور ان کے مشورے اور بعض دوستوں کی خواہش پر دو دن کے لئے کراچی کی طرف روانگی ملتوی کر دی ہے۔خلیفہ المسیح ، ۱۵۸۰