لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 582
582 عورت نے نہایت عاجزی سے درخواست کی کہ اس کے لئے ایک کمرہ اور بنوایا جائے۔اس نے کہا میرے لئے ایک کمرہ تو آپ کے آدمی پہلے ہی بنا چکے ہیں لیکن میری کئی جوان بیٹیاں اور بچے ہیں جن کے واسطے سر چھپانے کو جگہ نہیں ہے اس لئے میرے واسطے ایک کمرہ اور بنوا دیا جائے۔اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کے پاس نہ اینٹیں ہیں اور نہ لکڑی اور نہ ہی مٹی وغیرہ ہے۔اس نے نہایت درد بھرے انداز میں یہ درخواست کی۔حضور نے اسے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کا مکان بنوا دیا جائے گا۔چنانچہ ساتھ ہی مکرم قائد صاحب کو حضور نے ہدایت فرمائی کہ وہ اس عورت کے مکان کا Estimate آج ہی شام تک پیش کر کے اس کی تعمیر کی منظوری لے لیں۔اس کے بعد حضور رضی اللہ عنہ دھوبی منڈی واقعہ پرانی انار کلی کی تنگ گلیوں میں خدام کے ہاتھوں تعمیر شدہ مکانات کا معائنہ فرمانے اور وہاں کے لوگوں کی شکایات سننے کے بعد ” رتن باغ تشریف لے آئے۔۱۵۳ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی لاہور میں تشریف آوری ۲ - دسمبر ۱۹۵۴ء سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ۲ - دسمبر ۱۹۵۴ء کو ایک بجے کے قریب ربوہ سے لاہور تشریف لائے محترم چوہدری اسد اللہ خاں صاحب امیر جماعت کی قیادت میں بہت سے مقامی دوست بھی حضور کے استقبال کے لئے رتن باغ میں جمع ہو گئے تھے صحت کے متعلق حضور نے فرمایا: دو درد کمر سفر کی وجہ سے پھر تیز ہوگئی ہے۔کل ایکسرے لیا جائے گا اور ڈاکٹری مشورہ کیا جائے گا‘، ۱۵۴ حضور کی دوبارہ لاہور میں تشریف آوری ۹ - مارچ ۱۹۵۵ء مورخه ۲۶ - فروری ۱۹۵۵ ء کوحضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ پر جسم کے بائیں حصہ پر فالج کا حملہ ہوا۔رات دو بجے کے قریب لاہور سے ڈاکٹر پیرزادہ صاحب اور ڈاکٹر محمد یعقوب خاں صاحب ربوہ تشریف لے گئے اور معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ فالج کے حملہ کا اثر بہت حد تک دور ہو چکا ہے۔ان کے نزدیک فالج کے حملہ کی وجہ خون کے دباؤ کا یک دم بڑھ جانا اور دماغ کی شریانوں کا سکڑ جانا تھا جو بفضلہ تعالیٰ جلد معمول پر آ گیا۔فالحمد اللہ علی ذالک