لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 571
571 کیلئے گھر رکھی ہوئی تھی اور آخر الذکر بزرگ کے سسرال کی طرف سے آپ کی بیگم صاحبہ کو نوابی طریق کے مطابق ایک مرصع خنجر جہیز میں ملا تھا جس کی برآمدی پر دونوں بزرگوں کو گرفتار کر لیا گیا۔یہ گرفتاریاں کیم اپریل ۱۹۵۳ء کو ظہور میں آئیں اور ۲۸ مئی ۱۹۵۳ء کو انہیں آزاد کر دیا گیا۔۱۳۳ ان تلاشیوں اور گرفتاریوں سے یہ امر ظاہر ہوتا تھا کہ اس وقت کی حکومت یہ چاہتی تھی کہ احمدی اپنے ظالم اور خونخوار دشمنوں کے ہاتھوں نہتے مارے جائیں اور خود حفاظتی کے لئے اپنے گھر میں معمولی چاقو بھی نہ رکھ سکیں مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھئے کہ اس نے احمدیوں کی اس طرح خارق عادت طور پر حفاظت کی کہ مخالف یہ سمجھتے تھے کہ گویا احمدیوں کے گھر اسلحہ سے بھرے پڑے ہیں۔اکثر مقامات پر یہ بھی سنا گیا کہ انہوں نے فوج منگوائی ہوئی ہے جو رات کو ان کے گھروں کا پہرہ دیتی ہے۔میاں منظور احمد صاحب مدرس کی شہادت۔۵ مارچ ۱۹۵۳ء ۵ مارچ ۱۹۵۳ء کومشتعل ہجوم ہر حصہ میں گشت لگا رہا تھا۔سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا‘لوٹ کھسوٹ اور قتل و غارت کو بالکل معمولی چیزیں سمجھا جا رہا تھا۔باغبانپورہ کے ایک احمدی مدرس منظور احمد صاحب کو چھرے کی ایک ضرب سے شہید کر دیا گیا۔کئی پرائیویٹ کا روباری مرکز بھی لوٹ لئے گئے۔غرضیکہ لاقانونی کے اتنے واقعات ہوئے کہ پولیس اور فوج کو کئی بار گولی چلانا پڑی۔۳۴ رات اور دن کے اکثر حصوں میں ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ نے کرفیو لگا رکھا تھا مگر لوگ بالکل بے پروا ہورہے تھے۔۶۔مارچ کو جو ہولناک واقعات ہوئے ان کا ذکر کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے فاضل جج صاحبان لکھتے ہیں : چار اور احمدیوں کی شہادت اس دن کے واقعات کو دیکھ کر سینٹ بارتھولومیوڈئے یاد آتا تھا حتی کہ ڈیڑھ بجے بعد دو پہر مارشل لاء کا اعلان کر دیا گیا۔ہم ذکر کر چکے ہیں کہ ایک دن قبل ایک احمدی نوٹ از ناشر: مصنف کو غلطی لگی ہے حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے گھر سے بندوق نہیں بلکہ ایک سنگین نکلی تھی جو آپ کی فیکٹری میں حکومت کی طرف سے با قاعدہ آرڈر ملنے پر افواج پاکستان کو مہیا کرنے کیلئے تیار کی گئی تھی۔