لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 570
570 حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ کی طرف سے اخبار الفضل بند ہونے کی وجہ سے دستی پر لیس پر اپنی اور ربوہ کی خبر بھیجی جاتی تھی۔نیز جماعتوں کو تسلی دی جاتی تھی کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو دعاؤں کرو اور اپنے اپنے گھروں کو مت چھوڑ و مگر شور دن بدن بڑھتا جارہا تھا کہ مخالفین نے ۶ مارچ ۱۹۵۳ء کا دن اس امر کے لئے مقرر کر لیا کہ اس دن کوئی احمدی زندہ نہ رہنے دیا جائے گا اور ان کا مال و اسباب لوٹ لیا جائے گا۔اب پولیس بھی بے بس تھی اور شرفاء بھی۔۴۔مارچ ۱۹۵۳ ء کو ساڑھے چار بجے شام دہلی دروازے کے باہر ایک جلسہ عام منعقد ہوا۔جس میں حاضرین کی تعداد پانچ ہزار کے قریب تھی۔اس جلسے میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ چوک دالگراں میں ایک لڑکے کو گولی مار دی ہے اور قرآن مجید کو پامال کیا ہے۔جلسے کے بعد ایک جلوس مرتب کیا گیا جو مسجد وزیر خاں کی طرف روانہ ہوا۔منظور الحق اور محمد صادق اسسٹنٹ انسپکٹر ان نے مسجد وزیر خاں کے قریب اس ہجوم کو روکا۔سید فردوس شاہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ٹیلیفون پر اطلاع ملی کہ ان اسسٹنٹ سب انسپکڑوں کو اٹھا کر مسجد میں لے گئے ہیں اور یہ دونوں ہلاک کر دیئے گئے ہیں یا عنقریب کئے جانے والے ہیں۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس نے ایک مسلح ریز رو دستہ کی زیر سر کردگی سب انسپکٹر مظفر خاں ( تھانہ کوتوالی ) کو ساتھ لیا اور مسجد کی طرف چل دیئے۔مسجد کے عین باہر ان کا سامنا ایک غضبناک ہجوم سے ہوا۔جب ڈی۔ایس پی نے پوچھا کہ وہ دو پولیس افسر کہاں ہیں؟ تو ان کو بلوائیوں نے گھیر لیا اور ان پر چھروں اور لاٹھیوں سے حملہ کر کے وہیں ہلاک کر دیا۔سید فردوس شاہ کے جسم پر باون زخموں کے نشان تھے۔ان کا اپنا ریوالور اور ان کے ساتھی پولیس مینوں کی دو بندوقیں چھین لی گئیں اور سب انسپکٹر مظفر خاں زخمی ہو گیا۔ڈی۔ایس۔پی کی نعش کو کسی نے کوتوالی پہنچا دیا۔۱۳۲ ی وہ زمانہ تھا جب کہ حضرت اقدس امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی سمیت تمام سابق پنجاب کے قابل ذکر احمدیوں کے گھروں کی تلاشیاں لی گئیں اور کوشش یہ کی گئی کہ اگر کسی احمدی کے گھر سے اپنی دفاعی ضروریات کے لئے چاقو بھی برآمد ہو جائے تو اسے گرفتار کر لی جائے۔چنانچہ ہمارے نہایت ہی محبوب اور پیارے امام حضرت امیر المومنین خلیفہ اسی کے بھائی حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور بیٹے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ ) کو بھی اسی جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔حالانکہ اول الذکر بزرگ کا جرم اس قدر تھا کہ ان کی اسلحہ کی دوکان تھی اور ایک بندوق انہوں نے مرمت