لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 56 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 56

56 ساتھ کرو۔تعصب اور کینہ کو درمیان میں نہ لاؤ۔ر کا اثر نہایت ہی اچھا پڑا اور حضرات علماء کی ساری مخالفانہ کوششیں اکارت گئیں۔فالحمد لله على ذالک - ۵ ستمبر ۱۹۰۴ء کو مقدمہ کرم دین کی پیشی تھی اس لئے حضور ۴ ستمبر ۱۹۰۴ء کو واپس گورداسپور تشریف لے گئے۔احباب لا ہور کی خدمات اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں لاہور کی جماعت خدمات دینیہ میں ہمیشہ پیش پیش رہتی اور حضرت اقدس بھی ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے۔چنانچہ ۱/۲۲ کتوبر ۱۹۰۵ ء کو جب حضور دہلی تشریف لے گئے تو علاوہ اور اصحاب کے جناب خلیفہ رجب دین صاحب بھی حضور کے اس سفر میں شریک تھے۔پھر جب حضور نے فروری ۱۹۰۶ء میں صدر انجمن احمدیہ کے لئے مجلس معتمدین کے رکن نامزد فرمائے تو ان میں لاہور کے مندرجہ ذیل احباب بھی شامل تھے۔جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔ائے جناب خواجہ کمال الدین صاحب قانونی مشیر، جناب شیخ رحمت اللہ صاحب جناب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب جناب سید محمد حسین شاہ صاحب۔مگر افسوس ہے کہ ان احباب میں سے حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب کے علاوہ باقی حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کی وفات پر مرکز احمدیت کو ہمیشہ ہمیش کیلئے خیر باد کہہ کر لاہور میں آگئے اور احمد یہ بلڈنگس میں انجمن اشاعت اسلام کے ممبر بن کر حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے خلاف مخالفانہ پراپیگنڈہ کرنا اپنا شیوہ بنا لیا اور عداوت محمود میں اس حد تک ترقی کی کہ گویا ان کے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب ہی’ عداوت محمود بن کر رہ گیا۔آریہ سماج و چھو والی کی مذہبی کا نفرنس کیلئے حضور کا مضمون۔دسمبر ۱۹۰۷ء آریہ سماج و چھو والی لاہور نے ۲۔۳۔۴ دسمبر ۱۹۰۷ ء کو ایک مذہبی کانفرنس منعقد کی۔اس کانفرنس کے لئے انہوں نے نومبر ۱۹۹۷ء میں ہی اپنے تئیسویں سالانہ جلسہ کے موقعہ پر ایک اشتہار دے رکھا تھا جس میں عہد کیا تھا کہ مختلف مذاہب کے ودوان نہایت مہذبانہ رنگ میں اس سوال پر روشنی ڈالیں گے