لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 547 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 547

547 بن سکتا تھا۔خاکسار مؤلف کو خوب یاد ہے۔ان لیکچروں کو سننے کے لئے سول اور ملٹری کے بڑے بڑے افسر بلکہ اکثر وزراء بھی شامل ہوا کرتے تھے۔آخری لیکچر جو ۱۷۔جنوری ۱۹۴۸ء کو آنریبل سر شیخ عبدالقادر صاحب کی صدارت میں ہوا۔اس لیکچر کے بعد انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں فرمایا: حضرات ! میں آپ سب کے دل کی بات کہہ رہا ہوں جب کہ آپ کی طرف سے حضرت مرزا صاحب کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں۔نہ صرف آج کے لیکچر کے لئے بلکہ گذشتہ پانچ لیکچروں کے لئے بھی جن میں بے شمار اہم معاملات اور مسائل کے متعلق نہایت مفید اور ضروری باتیں آپ نے بیان فرمائی ہیں۔میں فاضل مقرر سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر ان لیکچروں کو کتابی شکل میں شائع کر دیا جائے تو پبلک آپ کی بہت ممنون ہوگی۔ایک چیز کا میرے دل پر خاص اثر ہے۔باوجود اس کے کہ فاضل مقر را اور آپ کی جماعت کو گذشتہ ہنگاموں میں خاص طور پر بہت نقصان اٹھانا پڑا لیکن آپ نے ان حوادث کی طرف اشارہ تک نہیں کیا، ۱۰۶ میں اس موقعہ پر ظلم کروں گا۔اگر ان تجاویز اور مشوروں کا خلاصہ بیان نہ کروں جو حضور نے اپنی ان تقاریر میں بیان فرمائے۔۱ - ۱۴- اکتوبر ۱۹۴۷ء کے اخبار "الفضل“ میں حضور کی ہدایت کے مطابق ایک مضمون شائع ہوا جس میں حضور نے فرمایا: پاکستان کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں سوائے مشرقی بنگال کے سارے کام وزراء کے سپرد ہیں اور نائب وزیر مقرر نہیں۔اس وجہ سے نہ تو کام ٹھیک ہوسکتا ہے اور نہ مسلمانوں میں نئے تجربہ کار آدمی پیدا ہو سکتے ہیں۔اس لئے نائب وزراء یعنی انڈرسیکرٹری مقرر ہونے چاہئیں۔۲ - پاکستان کو بیرونی ممالک سے تعلق قائم کرنا چاہئے۔مثلاً انڈو نیشیا ابی سینیا سعودی عرب انڈو نیشیا دوسرا بڑا اسلامی ملک ہے جس میں مسلمانوں کی آبادی چھ کروڑ ہے اور اس کا جائے وقوع بھی ایسی جگہ پر ہے کہ اس سے تعلقات آئندہ پاکستان کی ترقی اور