لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 541 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 541

541 سے قادیان کا بوجھ حد سے زیادہ ہو گیا۔اگر کنوائے آتے تو شاید میں بھی چلا جاتا۔اور جب مسٹر جناح اور پنڈت جی آئے تھے ان سے کوئی مشورہ کرتا مگر افسوس کہ فرض شناسی نہیں کی گئی۔اگر قادیان میں کوئی حادثہ ہو جائے تو پہلا فرض جماعت کا یہ ہے کہ شیخو پورہ یا سیالکوٹ میں ریل کے قریب لیکن نہایت سستی زمین لیکر ایک مرکزی گاؤں بسائے مگر قادیان والی غلطی نہیں کہ کوٹھیوں پر زور ہو۔سادہ عمارات ہوں۔فوراً ہی کالج اور سکول اور مدرسہ احمدیہ اور جامعہ کی تعلیم کو جاری کیا جائے۔دینیات کی تعلیم اور اس پر عمل کرنے پر ہمشہ زور دو۔علماء بڑے سے بڑے پیدا کرتے رہنے کی کوشش کی جائے۔۲ - تبلیغ کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے۔وقف کے اصول پر جلد سے جلد کافی مبلغ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔-۳- اگر میں مارا جاؤں یا اور کسی طرح جماعت سے الگ ہو جاؤں تو پہلی صورت میں فوراً خلیفہ کا انتخاب ہوا اور دوسری صورت میں ایک نائب خلیفہ کا۔۴ - جماعت با وجود ان تلخ تجربات کے شورش اور قانون شکنی سے بچتی رہے اور اپنی نیک نامی کے ورثہ کو ضائع نہ کرے۔۵- ہمارے کاموں میں ایک حد تک مغربیت کا اثر آ گیا تھا یعنی محکمانہ کارروائی زیادہ ہوگئی تھی۔اسے چھوڑ کر سادگی کو اپنانا چاہئے اور تصوف اور سادہ زندگی اور نماز روزہ کی طرف توجہ اور دعاؤں کا شغف جماعت میں پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔- قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر انگریزی و اردو جلد جلد شائع ہوں۔میں نے اپنے مختصر نوٹ بھجوا دیئے ہیں۔اس وقت تک جو تر جمہ ہو چکا ہے اس کی مدد سے اور تیار کیا جاسکتا ہے۔ترجمہ کرنے والا دعا ئیں بہت کرے۔ے۔ان مصائب کی وجہ سے خدا تعالیٰ پر بدظنی نہ کرنا۔اللہ تعالیٰ جماعت کو کبھی ضائع مراد پنڈت جواہر لال نہرو۔مؤلف