لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 500 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 500

500 پر بیٹھ کر ایک فاضلانہ خطبہ ارشاد فرمایا جس میں مسلم نکتہ نگاہ کی ترجمانی ایسے عمدہ رنگ میں کی کہ حاضرین عش عش کر اٹھے۔تمام پیچیدہ اور لائیل مسائل مثلاً وفاق وفاقی مجالس قانون مالیات وفات حق رائے دہندگی عدالت وفاق صوبجاتی خود مختیاری، مسلمانوں کے اساسی حقوق وغیرہ پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔اس خطبہ کو مسلم لیگ کی تاریخ میں نہایت ہی اہم درجہ حاصل ہے۔چنانچہ اسلامی پریس نے اس کی بے حد تعریف کی۔ا۔روزنامہ انقلاب لاہور نے خطبہ صدارت درج اخبار کرتے ہوئے لکھا: چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس دہلی کے صدر کی حیثیت سے جو خطبہ پڑھا اس میں سیاسیات ہند اور سیاسیات اسلامی کے تمام مسائل پر نہایت سلاست، سادگی اور سنجیدگی سے اظہار خیالات فرمایا‘۶۷ اخبار الامان ، دہلی نے لکھا: جہاں تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی تجاویز اور اس کے خطبہ صدارت کا تعلق ہے اس میں پوری پوری مسلمانان ہند کی ترجمانی کی گئی ہے۔یہ اجلاس گذشتہ جلسوں سے زیادہ کامیاب رہا۔وزیر اعظم کے اس تاریخی اعلان پر جو اس نے ۲۔دسمبر کو گول میز کانفرنس میں پیش کیا تھا۔مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا کہ جب تک وہ مسلمانوں کے فلاں فلاں مطالبات نہ منظور کریں۔اس وقت تک مسلمان محض اس اعلان سے ہرگز مطمئن نہیں ہو سکتے۔اس طرح ایک اہم تجویز آل انڈیا مسلم کانفرنس اور آل انڈیا مسلم لیگ کو متحد کرنے کے لئے منظور کی گئی۔جس پر مسلمانوں کی سیاسی موت وحیات کا دارو مدار ہے۔اسی طرح بعض اور مفید ضروری تجاویز منظور ہوئیں۔اسی طرح خطبہ صدارت میں جس دلیری و بیباکی کے ساتھ حکومت کے رویہ کی مذمت اور حقوق مسلمین کی وکالت کا حق ادا کیا گیا ہے۔وہ بھی اس اجلاس کی ایک تاریخی خصوصیت ہے،۱۸ ۳۔”الخلیل‘ دہلی نے لکھا : تمام خطبہ آپ کی فاضلانہ اور دلیرانہ ترجمانی سے لبریز ہے۔آپ نے اس خطبہ صدارت میں جن گرانقدر خیالات کا اظہار کیا ہے حقیقت میں وہی مسلمانوں کے خیالات