لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 499 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 499

499 اور بولتے ہیں تو کانٹے میں تول کر اور بہت احتیاط کے ساتھ پورا تول کر بولتے ہیں۔سیاسی عقل ہندوستان کے ہر مسلمان سے زیادہ رکھتے ہیں۔وزیر اعظم، وزیر ہند اور وائسرائے اور سب سیاسی انگریز ان کی قابلیت کے مداح ہیں اور ہندو لیڈر بھی بادل ناخواستہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ شخص ہما را حریف تو ہے مگر بڑا ہی دانشمند حریف ہے اور بڑا ہی کارگر حریف ہے۔گول میز کانفرنس میں ہر ہندو اور مسلمان اور ہر انگریز نے چوہدری ظفر اللہ خاں کی لیاقت کو مانا اور کہا کہ مسلمانوں میں اگر کوئی ایسا آدمی ہے جو فضول اور برکا ربات زبان سے نہیں نکالتا اور نئے زمانہ کے پالیٹکس پیچیدہ کو اچھی طرح سمجھتا ہے تو وہ چوہدری ظفر اللہ ہے۔میاں سر فضل حسین قادیانی نہیں ہیں مگر وہ اس قادیانی کو اپنا سیاسی فرزند اور سپوت بیٹا تصور کرتے ہیں۔ظفر اللہ ہر انسانی عیب سے پاک اور بے لوث ہے۔۶۶۴ ان گول میز کانفرنسوں میں شرکت اور قوم اور ملک کی بے لوث خدمتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ برطانوی مدبرین اور مسلم اکابرین نے آپ کی شاندار خدمات کا کھلے بندوں اعتراف کیا اور جب ۱۹۳۴ ء میں وائسرائے ہند کی ایگزیکٹو کونسل میں آنریبل سر فضل حسین صاحب کی جگہ خالی ہوئی تو آپ کو بلا مقابلہ ممبر منتخب کر لیا گیا۔مسلم لیگ کے اجلاس دہلی کی صدارت حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی خدمات ملتی وملکی کا مسلمانوں کے سنجیدہ طبقہ پر اس قدراثر تھا کہ مسلم لیگ کا جو اجلاس ۲۶۔دسمبر ۱۹۳۱ء کو دہلی میں ہونا قرار پایا اس کی صدارت کے لئے آپ کی خدمت میں درخواست کی گئی۔چنانچہ اس اجلاس کے لئے اولاً مسجد فتح پوری کا جیون ہال تجویز کیا گیا مگر کچھ غیر تعلیم یافتہ لوگوں کی شرارت کی وجہ سے اس ہال میں اجلاس نہ ہو سکا بلکہ اس کی بجائے مسلم لیگ کے یک صدمند و بین خان صاحب نواب علی صاحب کی کوٹھی واقع کیلنگ روڈ نئی دہلی میں جمع ہوئے اور خان صاحب ایس۔ایم عبداللہ صدر مجلس استقبالیہ کے خطبہ کے بعد سرمولوی محمد یعقوب صاحب سیکرٹری مسلم لیگ نے لیگ کونسل کے انتخاب کے مطابق محترم جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب سے صدارت کے فرائض ادا کرنے کی درخواست کی۔چنانچہ چوہدری صاحب نے کرسی صدارت