لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 49
49 سفر جہلم کے دوران لاہور میں قیام۔۱۵ جنوری ۱۹۰۳ء یہ بات جماعت میں شائع و متعارف ہے کہ جب پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑ وی حضرت اقدس سے روحانی اور علمی مقابلہ میں عاجز آ گئے تو انہوں نے اپنے مریدوں کی معرفت اپنی علمیت کا جھوٹا دعوی کر کے پبلک کو دھوکہ دینے کی کوشش شروع کر دی۔حضرت اقدس نے ان کی علمیت کا پردہ چاک کرنے کیلئے فصیح و بلیغ عربی زبان میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر لکھنے کا عزم فرمایا۔اور انہیں بھی بالمقابل ایسی ہی تفسیر لکھنے کی دعوت دی اور اس کے لئے ۱۱۵ دسمبر ۱۹۰۰ ء سے لے کر ۲۵ فروری ۱۹۰۱ء تک ستر دن کی مدت مقرر کی۔چنانچہ آپ نے پیر صاحب کو مخاطب کر کے لکھا کہ اگر معیاد مجوزہ تک یعنی ۱۵/ دسمبر ۱۹۰۰ ء سے لے کر ۲۵/ فروری ۱۹۰۱ء تک جوستر دن ہیں فریقین میں سے کوئی فریق تفسیر سورۃ فاتحہ چھاپ کر شائع نہ کرے اور یہ دن گذر جائیں تو وہ جھوٹا سمجھا جائے گا اور اس کے کا ذب ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں رہے گی۔۲۹ اور ساتھ ہی لکھا کہ اگر اہل علم میں سے تین گس جوادیب اور اہل زبان ہوں اور فریقین سے کچھ تعلق نہ رکھتے ہوں قسم کھا کر کہہ دیں کہ پیر صاحب کی کتاب کیا بلاغت اور کیا فصاحت کی رُو سے اور کیا معارف قرآنی کی رُو سے فائق ہے تو میں عہد صحیح شرعی کرتا ہوں کہ پانچ سورو پی نقد بلا تو قف پیر صاحب کی نذر کروں گا“۔ہ چیلنج دے کر اور انعام مقر فرما کرحضور نے تو اپنی کتاب بنام اعجاز اسی وقت مقررہ کے اندر یعنی ۱۲۰ فروری ۱۹۰۱ء کو شائع فرما دی لیکن پیر صاحب اس کتاب کے مقابل میں کوئی کتاب نہ لکھ سکے۔البتہ ان کے ایک مرید مولوی محمد حسن صاحب سکنہ بھین ضلع جہلم نے اعجاز مسیح “ کا جواب لکھنا شروع کیا۔مگر ابھی چند صفحے ہی لکھے تھے کہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔انہوں نے اعجاز مسیح “ اور شمس بازغہ مصنفہ حضرت مولوی محمد احسن صاحب امروہی کے حاشیوں پر نوٹ لکھے تھے اور حضرت اقدس کی بیان فرمودہ بعض صداقتوں کو جھٹلانے کے لئے لعنة الله على الكاذبين على الکاذبین لکھا تھا مگر ابھی اس لعنت