لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 498
498 رکھنے والے برطانوی حلقوں میں آپ کی شہرت میں بہت اضافہ ہو گیا۔مشتر کہ پارلیمینٹری کمیٹی کے چیئر مین لارڈ نلتھگو تھے۔اس کمیٹی میں سر محمد ظفر اللہ خاں نے جو کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے انہیں بے حد مقبولیت ہوئی اور انہوں نے ان کو برطانیہ کے صف اول کے بعض ممتاز مد برین مثلاً لارڈ سینکئے آرچ بشپ کنٹر بری سر آسٹن چیمبر لین اور مارکوئیس آف سالسبری کے رشتہ دوستی سے منسلک کر دیا۔سر محمد ظفر اللہ خاں نے انگلستان کے ہوشیارترین مباحث اور سیاستدان مسٹر چرچل پر زبر دست جرح کی۔مسٹر چرچل کمیٹی کے سامنے شہادت دے کر فارغ ہوئے تو سر محمد ظفر اللہ سے از راہ مذاق کہنے لگے۔آپ نے کمیٹی کے سامنے مجھے دو گھنٹے بہت بری طرح رگیدا ہے۔بایں ہمہ جب سلطنت برطانیہ بلکہ تمام مہذب دنیا کو شدید ترین خطرہ لاحق ہونے کے پیش نظر تمام سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھنا پڑا تو ان دونوں کے باہم بہترین دوست بن جانے میں سر محمد ظفر اللہ خاں کی جرح حائل نہ ہو سکی۔مشتر کہ منتخب کمیٹی میں اہم خدمات سرانجام دینے کی وجہ سے لارڈ نلتھگو (چیئر مین کمیٹی ووائسرائے ہند۔ناقل ) کو آپ کا کام بنظر تعمق دیکھنے کا موقعہ مل گیا۔سر ماوس گورن۔۔گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ء کے اصل تشکیل دہندہ ہیں۔سر محمد ظفر اللہ خاں کو کئی مواقع ان سے مل کر کام کرنے کے میسر آئے۔۶۳ )۔۔ڈاکٹر عاشق حسین صاحب بٹالوی نے لکھا: گول میز کانفرنس کے مسلمان مندوبین میں سب سے زیادہ کامیاب آغا خاں اور چوہدری ظفر اللہ خاں ثابت ہوئے۔‘،۶۴ ۴ اخبار مسلم آواز کراچی نے لکھا: سر ظفر اللہ خاں کے متعلق قائد اعظم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ظفر اللہ کا دماغ خداوند کریم کا زبردست انعام ہے۔۱۵،، ۵۔حضرت خواجہ حسن نظامی نے جو ایک دردمند دل رکھنے والے مسلمان تھے لکھا: دراز قد مضبوط اور بھاری جسم، عمر چالیس سے زیادہ گندمی رنگ چوڑا چکلا چہرہ فراخ جسم فراخ عقل، فراخ علم، اور فراخ عمل، قوم مسلمان، عقیدہ قادیانی ، چپ رہتے ہیں