لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 456 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 456

456 اشارہ کر کے) کی روشنی کو اس بجلی کے لیمپ ( جو اوپر آویزاں تھا کی طرف انگلی اٹھا کر ) کی روشنی سے ہے۔حضرات ! جس فصاحت اور علمیت سے جناب مرزا صاحب نے اسلامی تاریخ کے ایک نہایت ہی مشکل باب پر روشنی ڈالی ہے وہ انہیں کا حصہ ہے۔،، جناب! ایڈیٹر صاحب ”پیغام صلح نے ایک قابل قدرلیکچر کے عنوان سے لکھا: ہم علانیہ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ۲۶۔فروری 1919ء کو حبیبیہ ہال لاہور میں خلافت اسلامیہ کے اندرونی اختلاف پر جو لیکچر انہوں ( مراد حضرت خلیفہ اسیح الثانی۔مؤلف) نے دیا وہ نہایت ہی قابل قدر اور لائق تحسین تھا۔جس محنت اور جس قابلیت کے ساتھ میاں صاحب نے تاریخ کی ورق گردانی کر کے ان اسباب کو معلوم کیا جو صحابہ رضی اللہ عنہم کے باہمی اختلافات اور آپس کی نزاعات اور جنگوں کا باعث تھے اور جس خوبی کے ساتھ اس الزام کو کہ صحابہ رضی اللہ عنہم دراصل ان فتنوں کے موجب تھے ان خیر القرون کے بزرگوں سے اتارنے کی کوشش کی ہے وہ داددینے کے قابل ہے۔یہ تقریر جب اگلے سال یعنی ۱۹۲۰ ء میں شائع ہوئی تو اس کی ابتداء میں جناب سید عبدالقادر صاحب نے تمہیداً لکھا کہ فاضل باپ کے فاضل بیٹے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کا نام نامی اس بات کی کافی ضمانت ہے کہ یہ تقریر نہایت عالمانہ ہے۔مجھے بھی تاریخ اسلامی سے کچھ شد بد ہے۔اور میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ کیا مسلمان اور کیا غیر مسلمان بہت تھوڑے مورخ ہیں جو حضرت عثمان کے عہد کے اختلافات کی تہہ تک پہنچ سکے ہیں اور اس مہلک اور پہلی خانہ جنگی کی اصلی وجو ہات کو سمجھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔حضرت مرزا صاحب کو نہ صرف خانہ جنگی کے اسباب سمجھنے میں کامیابی ہوئی ہے بلکہ انہوں نے نہایت واضح اور مسلسل پیرائے میں ان واقعات کو بیان فرمایا ہے جن کی وجہ سے ایوان خلافت مدت تک تزلزل میں رہا۔میرا خیال ہے ایسا مدلل مضمون اسلامی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے احباب کی نظر سے پہلے کبھی نہیں گذرا ہو گا۔