لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 419
419 اور وہ کاغذ دکھایا۔وہ حسرت آج تک میرے پیش نظر ہے جو اس کاغذ کو دیکھ کر مولوی صاحب کے چہرے پر نمودار ہوئی۔آپ نے کئی منٹوں تک گردن نیچی رکھی اور پھر بعد میں اس کا غذ کو اپنی جیب میں رکھ کر فرمایا کہ میں اس کی تعبیر بعد غور بتلاؤں گا۔۴۸ گھنٹہ اس واقعہ پر گذرے کہ بادشاہ وقت جہاں سے رخصت ہو گیا اور نئے کار کے آثار شروع ہو گئے۔اس خواب سے اطلاع اسی دن مرزا یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب کو دی گئی تھی۔اور وہ خدا واسطے اس امر کی شہادت دے سکتے ہیں۔الغرض جب ہم اس اچانک موت کے ضروری انتظام سے فارغ ہو کر ریل میں بغرض قادیان بیٹھے تو میں نے حضرت شیخ رحمت اللہ صاحب سے جبکہ ہر دو ڈاکٹر صاحب بھی ہمراہ تھے پوچھا کہ بتلا ؤ ! اب خلیفہ کون ہو گا تو شیخ صاحب نے فی الفور بجواب کہا کہ وہی جس کی تمہیں دو دن پہلے اطلاع ہو چکی ہے۔شیخ صاحب کا اس رؤیا ء کی طرف اشارہ تھا۔جب ہم قادیان پہنچے اور حضرت فاضل امروہی اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی استرضا کے بعد گول کمرہ قادیان میں جمع ہوئے تو میں نے حضرت قبلہ کو وہاں آنے کی تکلیف دی اس وقت بھی میں نے یہ نہیں کہا کہ اب آپ خلافت کو قبول کریں بلکہ میں نے یہ عرض کیا کہ حضور کو جو کا غذ پرسوں لا ہور میں میں نے دیا تھا اور جس میں میرا ایک رؤیاء تھا۔وہ کیا حضور کو یا د ہے؟ مولوی صاحب۔ہاں میاں۔وہ کا غذ اب بھی میری جیب میں ہے۔میں۔تو پھر اب وہ وقت آ گیا۔اس کے بعد حضرت نے دو نفل ادا کئے اور مجھے حکم دیا کہ مائی صاحب اور میر صاحب سے استرضا کروں۔جو تقریر اول بطور خلیفتہ اسیح آپ نے باغ میں فرمائی اس میں بھی آپ نے مجھے مخاطب کر کے ذیل کے الفاظ فرمائے : اب سستی اور غفلت چھوڑ دو اور چستی اور کا ر کر دگی کے وطنوں میں آباد ہو جاؤ ” یہ الفاظ بھی خواب کی طرف تلمیح کرتے تھے لیکن نہ مجھے اور نہ حکیم صاحب قبلہ کو اس وقت علم تھا کہ یہ الفاظ استعارہ نہیں بلکہ لفظی معنی میں پورے ہونے والے ہیں۔آج میں ہوں اور یورپ۔کیا عجیب بات ہے کہ کل سے میری طبیعت یہاں بے چین ہے اور بار بار