لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 406
406 اجازت لے کر دونوں شاگرد استاد کھر پے لئے صحن مسجد کو گھانس پھونس سے صاف کرنے میں جت گئے اور یوں بیعت سے بھی پہلے حضرت مولا نا اور ان کے بیسیوں ارادتمند علیحدہ نماز ادا کرنے لگے جس کے کچھ دنوں بعد مولانا نے حضرت ابا جان کو حضرت مسیح موعود کی صداقت کے بارے میں اپنے رب سے استخارہ کر کے رہنمائی حاصل کرنے کی تقلین فرمائی۔جس کے نتیجے میں آپ نے ایک ایسا واضح، واشگاف اور پُر انوار خواب دیکھا کہ دامن مسیح سے وابستہ ہو جانے میں کوئی انقباض نہ رہا۔اس خواب میں حضرت معاذ بن جبل نے آپ سے مل کر حضرت مولوی صاحب کا پتہ پوچھا اور سید ولد آدم حضرت محمد مصطفی علی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زیرہ میں ورود مسعود اور پڑاؤ نامی میدان میں بیعت لینے اور بڑے چوک میں جھنڈا گاڑ نے کا مژدہ سنایا۔اتنے میں دو (اس سے بھی خوبصورت ) گھوڑوں پر دونوں متذکرہ برگزیدہ ہستیوں کی سواریاں آگئیں۔ابا جان نے آگے بڑھ کر آقائے دو جہان علیہ کے گھوڑے کے ایال پکڑ کر بوسہ دیا۔حضور نے بھی حضرت مولوی صاحب کے متعلق دریافت فرمایا۔پھر پڑاؤ میں بیعت ہوئی اور بڑے چوک میں حضور پر نور ﷺ نے خوش بخت سامعین کو اپنے ارشادات مقدسہ سے نوازا۔حضرت ابا جان یہ خواب (جس کے اچٹتے سے کوائف ہی میں نے یہاں بیان کئے ہیں ) ہر دوسرے تیسرے ہفتے بڑے ہی مزے لے لے کر ہم سب کو سنایا کرتے تھے۔اس آفتاب عالمتاب کا جلوہ دیکھ لینے اور حضور کی زبان معجز بیان سے مسیح موعود کی تائید وصداقت سن لینے کے بعد تو اشتباہ کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہی تھی۔چنانچہ حضرت ابا جان کامل انشراح صدر کے ساتھ دامے درمے قدمے سخنے حضرت مولوی صاحب سے تعاون کرنے لگے۔اور مغرب و عشاء کے درمیان اور عشاء کے بعد روزانہ مسجد میں تبلیغی مجالس جمنے لگیں جن میں بعض اوقات حضرت مولوی صاحب اگر رات کے وقت وعظ ونصائح شروع فرماتے تو سپیدی سحر نمودار ہو جاتی۔اب زیرہ میں چرچا تھا تو احمدیت کا۔مخالفت تھی تو احمدیت کی اور دلوں میں ڈبل اتھی تو احمدیت کے لئے جس نے حضرت مولوی علی محمد صاحب ایسے جید عالم کو بھی ” حلقہ بگوش‘ بنا