لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 405 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 405

405 حضرت مولا نا مولوی علی محمد صاحب کے وہ الفاظ جنہوں نے حضرت ابا جان ( حکیم مولوی اللہ بخش خان) کے فکر ونظر کے تمام زاوئیے ہی بدل ڈالے اور وہ شخص جو دن رات اپنے استاد ( حضرت مولوی علی محمد صاحب ) یہ کہا کرتا تھا: مولوی صاحب آپ کس جماعت کے پیچھے لگ گئے ہیں۔جس کو قدم قدم پر گالیاں ملتی ہیں اور جس کے افراد کے ہر روز منہ سیاہ کئے جاتے ہیں۔ماشاء اللہ آپ کا سارے علاقے ہی میں بڑا وقار ہے۔مسجد سے معقول آمد ہے۔ہم ایسے زمینداروں کے لڑکے آپ سے علم حاصل کرنا برکت اور سعادت خیال کرتے ہیں۔دور دور تک آپ کا علمی دبدبہ ہے۔آپ کو نہ جانے اس کتاب میں کیا نظر آ گیا ہے کہ آپ یکسر گداز ہی ہو گئے ہیں۔“ اب وہی سنجیدگی کے ساتھ اپنے استاد مکرم کی اس تبدیلی عقیدہ پر غور کرنے لگا تھا اور اس کے دل میں احمدیت کے لئے تجنس و تحقیق کے لئے سچی تڑپ پیدا ہو گئی تھی۔اس مبارک و مسعود تخم ریزی کی اصل داستاں مختصر یوں ہے کہ ضلع جالندھر کے ایک صحابی میاں جھنڈا دو ایک جمعوں پر حضرت مولوی صاحب کو مسیح موعود کے ظہور پر نور کا مزہ دہ سنانے آئے مگر دونوں دفعہ ان کے حکم پر مسجد سے دکھے دے کر نکال دیئے گئے۔حتی کہ وہ ایک دن حضرت مسیح موعود کے تیر بہدف نسخہ تزکیہ نفس ” آئینہ کمالات اسلام سے لیس ہو کر آدھمکے اور ایسی شست باندھ کر کمان سے تیر چھوڑا کہ عین سینے پر لگ کر آر پار ہو گیا اور حضرت مولانا گھائل ہو گئے اور اپنے سینے سے ٹکرا کر دامن میں آ کر گرنے والی اس کتاب کے چند ہی صفحات کا مطالعہ کرنے کے بعد بے ساختہ پکارا تھے: دہم تو اب تک اس شخص کو صرف فیضی زماں ہی سمجھتے رہے یہ تو امام زماں نکلا۔اللہ بخش ! اسی وقت جاؤ اور مسجد کے مدارالمہام سے کہہ آؤ کہ اپنی مسجد کے لئے کسی نئے خطیب و پیش امام کا انتظام کرلیں۔دیران مسجد کی آبادی اور چند دنوں کے بعد گوجروں کے نمبردار سے ان کی ویران مسجد کو آباد کرنے کی