لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 403 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 403

403 محترم شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی ولادت: ۱۸۸۳ء بیعت : ۱۹۰۷ء ( نوٹ : کتاب کی کتابت مکمل ہو چکی تھی کہ محترم شیخ صاحب کے حالات موصول ہوئے۔مجبوراً یہاں آخر میں درج کئے جا رہے ہیں۔مؤلف ) محترم شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی کے والد محترم کا نام شیخ علی بخش صاحب تھا۔آپ نے میٹرک پاس کر کے ۱۹۰۴ء میں آبزرور پریس لاہور میں ملازمت شروع کی۔وہاں ہی حضرت ماسٹر محمد طفیل صاحب نے آپ کو تبلیغ کے دوران میں ریویو کا ایک مضمون دکھایا جو آپ کو بہت پسند آیا۔آپ نے حضرت اقدس کی خدمت میں چھٹی لکھی جس کے جواب میں حضور نے آپ کو شروع سے لے کر اس وقت تک کے تمام پرچے بھجوا دیے جن کی بعد ازاں آپ نے قیمت بھی ادا کر دی۔اس زمانہ میں آپ حضور کی خدمت میں لکھا کرتے تھے کہ ”حضور دعا فرمائیں۔میرا دل اس دنیا اگست ۱۹۰۷ء میں قادیان جا کر دستی بیعت کا شرف حاصل ہوا۔فالحمد لله على ذلك۔اولاد: ملک محمد احمد۔ملک مبارک احمد۔ملک لطیف احمد۔ملک رشید احمد۔ملک لئیق احمد طاہر اور چارلڑکیاں۔درج ذیل اصحاب مسیح موعود علیہ السلام کے حالات بھی بعد موصول ہوئے ہیں حضرت میاں نظام الدین صاحب رضی اللہ عنہ ولادت: ۱۸۶۸ء بیعت : ۱۸۹۵ء وفات : ۱۹۳۰ء نہ لگے حضرت میاں نظام الدین صاحب حضرت میاں چراغ الدین صاحب رئیس لاہور کے خالہ زاد بھائی اور داماد تھے۔والدہ حضرت میاں چراغ الدین صاحب اور والدہ حضرت میاں نظام الدین صاحب دونوں بہنیں حضرت سید نادر شاہ صاحب سکنہ شاہ مسکین کی ہمشیرگان تھیں۔حضرت میاں نظام الدین صاحب کا تمام خاندان غیر احمدی تھا۔ان کی ہدایت کا ذریعہ ان کی اہلیہ صاحبہ بن گئیں جن کا نام فاطمہ بیگم تھا اور صحا بہیہ بھی تھیں۔حضرت میاں نظام الدین صاحب کی والدہ زیب النساء اور اہلیہ دونوں کی وفات 1919ء میں ہوئی۔اور خود حضرت میاں صاحب مرحوم ۱۹۳۰ء میں فوت ہوۓ۔انا الله وانا اليه راجعون۔