لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 39 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 39

39 تمام ہال اوپر نیچے سے بھر رہا تھا اور سامعین ہمہ تن گوش ہورہے تھے۔مرزا صاحب کے لیکچر کے وقت اور دیگر سپیکروں کے لیکچروں کے امتیاز کیلئے اس قدر کہنا کافی ہے کہ مرزا صاحب کے وقت خلقت اس طرح آ آ کر گری جیسے شہد پر کھیاں۔مگر دوسرے لیکچروں کے وقت بوجہ بے لطفی بہت سے لوگ بیٹھے بیٹھے اٹھ جاتے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب کا لیکچر بہت معمولی تھا۔وہی ملا ئی خیالات تھے جن کو ہم روز سنتے ہیں۔اس میں کوئی عجیب و غریب بات نہ تھی۔اور مولوی صاحب موصوف کے دوسرے لیکچر کے وقت کئی شخص اٹھ کر چلے گئے مولوی صاحب ممدوح کو اپنا لیکچر پورا کرنے کیلئے چند منٹ زائد کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔۱۵ اس طرح جب یہ مضمون کتابی شکل میں اسلامی اصول کی فلاسفی“ کے نام سے شائع ہوا اور دنیا کی متعدد زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے تو بڑے بڑے اہل الرائے اصحاب نے اس مضمون کے متعلق تعریف و توصیف سے پُر آراء لکھیں مگر افسوس کہ اس مختصر سے مضمون میں ان کا اندراج ممکن نہیں۔پنڈت لیکھرام کا قتل لا ہور ہی وہ مقام ہے جہاں مشہور آریہ لیکھر ام اسلام اور بانی اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف اپنی بدزبانی کے جرم کی پاداش میں قہار خدا کے قہر کا نشانہ بن گیا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب ۱۸۸۵ء میں غیر مسلموں کو نشان نمائی کی دعوت دی تو یہ بھی مقابلہ کیلئے قادیان میں آئے مگر چند روز مخالفوں کے پاس رہ کر واپس چلے گئے۔یہ حضرت اقدس سے بار بار نشان طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ میری نسبت جو پیشگوئی آپ چاہیں شائع کر دیں۔میری طرف سے اجازت ہے۔چنانچہ حضرت اقدس نے جب ان کے متعلق دعا کی تو الہام ہوا: عِجْلُ جسدُ لَهُ خُـوارُ لَهُ نَصَبُ وعَذَاب یعنی یہ صرف ایک بے جان گوسالہ ہے جس کے اندر سے ایک مکر وہ آواز نکل رہی ہے اور اس کے لئے ان گستاخیوں اور بد زبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے جوضرور اس کومل کر رہے گا۔۱۶