لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 370
370 ہندوستان کی نمائندگی کا موقع ملا۔تقسیم ملک کے وقت آپ فیڈرل کورٹ آف انڈیا کے جج تھے۔پاکستان بننے کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے آپ کو وزیر خارجہ بننے کی پیشکش کی جسے آپ نے منظور کر لیا۔اس عظیم منصب پر۔فائز ہونے کے بعد آپ نے جو خدمات سرانجام دیں ان کے بارہ میں چند شہادتیں درج ذیل ہیں۔ا۔میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ ( جو اس وقت پنجاب کے وزیر خزانہ تھے ) نے ۱۰۔مارچ ۱۹۴۸ء کو پنجاب اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ : پاکستان کی تعمیر واستحکام کے سلسلہ میں حضرت قائد اعظم کے بعد میرے خیال میں جن دو بڑی شخصیتوں نے کام کیا ہے ان میں پہلا نام ہمارے امور خارجہ کے وزیر سر محمد ظفر اللہ خاں کا ہے اور دوسرا وزیر خزانہ مسٹر غلام محمد کا ہے۔سر ظفر اللہ خاں نے ساری دنیا پر آشکار کر دیا کہ پاکستان ایسے بلند دماغ اور شاندار مقر ر ا ور اپنی حکومت کے بچے خادم رکھتا ہے جس کے سامنے دنیا کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ملت پاکستان چوہدری محمد ظفر اللہ خاں کے حق میں اتنی ناشکر گزار نہیں ہو سکتی کہ وہ معدودے چندر جعت پسندوں کی غوغا آرائی کے لئے گمراہ ہو جائے اور پھر ان گنتی کے چند لوگوں کی غوغا آرائی جو جہالت کے محدود و معین خیالات میں پھنسے ہوئے ہیں۔۵۰ السٹریلڈ ویکلی پاکستان رقمطراز ہے: سلامتی کونسل میں وہ وقت بھی نہایت نازک تھا جب اسرائیل کے معاملہ میں بحث ہورہی تھی۔بڑی طاقتیں اس مملکت کو بہر طور نواز نے پر تلی ہوئی تھیں جو صہیونی دہشت انگیزی کی بدولت معرض وجود میں آئی تھی۔ہر قابل ذکر آدمی بول چکا تھا اور بولا بھی تھا دنیائے عرب کے مفاد کے سراسر خلاف۔عربوں کے ترجمان بھی اپنے خیالات کا اظہار کر چکے تھے۔لیکن ان بیچاروں پر وہی مثل صادق آ رہی تھی کہ نقار خانے میں طوطی کی صدا کون سنتا ہے۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ بڑی طاقتوں کے بلند بانگ غلغلہ میں ان کی کمزور آواز دب کر رہ گئی ہے۔طویل القامت، نحیف الحسبة چوہدری محمد ظفر اللہ خاں بحث کے دوران میں خاموش بیٹھے دیکھ رہے تھے۔انہوں نے ایک لفظ بھی نہ کہا اور نہ ہی کچھ کہنے کا ارادہ تھا کیونکہ