لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 355
355 صاحب سے مثنوی روم کا دفتر چہارم پڑھ رہے تھے۔حسن اتفاق سے مسجد میں پولیس کا ایک سپاہی آ گیا جس کے پاس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ” آئینہ کمالات اسلام تھی۔وہ کتاب اس سے عاریۂ حضرت مولوی امام الدین صاحب نے حاصل کر لی اور مطالعہ کرنے کیلئے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے۔دوسرے روز آپ بھی کسی کام کیلئے حضرت مولوی صاحب کے مکان پر پہنچے۔وہاں کتاب پڑی تھی۔کھولتے ہی آپ کی نظر حضرت اقدس کے اس شعر پر پڑی ؎ عجب نوریست در جان عجب لعلیست درکان محمد اس نظم کو آپ نے شروع سے لے کر آخر تک اس حال میں پڑھا کہ سوز و گداز سے آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک جھڑی لگ رہی تھی اور جب اس شعر پر پہنچے کہ کرامت گرچه بے نام ونشاں است بیا بنگر ز غلمان محمد تو آپ کے دل میں تڑپ پیدا ہوئی کہ کاش! ایسے عظیم الشان بزرگ کی آپ کو زیارت ہو جائے۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب جب گھر سے باہر تشریف لائے تو ان سے آپ نے دریافت کیا کہ یہ منظومات عالیہ کس بزرگ کے ہیں؟ مولوی صاحب نے بتایا کہ قادیان ضلع گورداسپور میں مرزا غلام احمد صاحب نام ایک بزرگ ہیں اور مسیح موعود اور امام مہدی ہونے کے مدعی ہیں۔یہ کلام ان کا ہے۔اس پر بے اختیار آپ کی زبان سے یہ فقرہ نکلا کہ دنیا بھر میں اس شخص کے برابر رسول اللہ علیہ کا عاشق کوئی نہیں ہوا ہوگا“ صلى الله۔اس کے بعد آپ نے ستمبر یا اکتوبر ۱۸۹۷ء میں حضرت مولوی صاحب موصوف کے ساتھ قا دیان پہنچ کر حضرت اقدس کے دست حق پرست پر بھی بیعت کرنے کا شرف حاصل کر لیا۔واپسی پر اپنے علاقہ کے طول وعرض میں دیوانہ وار تبلیغ شروع فرما دی۔جس کے نتیجہ میں آپ کی شدید مخالفت ہوئی مگر آپ نہ گھبرائے نہ پروا کی اور صبر و استقلال سے اپنا کام کرتے رہے۔خلافت اولی میں آپ کو لاہور میں بطور مبلغ بھیج دیا گیا اور پھر ساری عمر تنظیم سلسلہ کے ماتحت تبلیغ تفصیل کیلئے دیکھئے ”حیات قدسی حصہ اوّل شائع کردہ محترم حکیم عبداللطیف صاحب گجراتی ☆