لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 34
34 ۴۔حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب طبیب شاہی۔۵۔رائے بھوانی داس صاحب ایم۔اےایکسٹراسیٹلمنٹ آفیسر جہلم۔۶۔جناب سردار جواہر سنگھ صاحب سیکرٹری خالصہ کالج کمیٹی لا ہور۔ایگزیکٹو کمیٹی کی تجویز کے مطابق جلسہ کے دوسرے روز یعنی ۲۷ دسمبر کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا مضمون سنایا جانا تھا۔اس روز کمیٹی نے صدارت کیلئے حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب کا نام تجویز کیا۔حضرت مولوی صاحب کی صدارتی تقریر کے بعد پہلے بابو بیجا رام صاحب چڑ جی سابق پریذیڈنٹ آریہ سماج سکھر نے تقریر کی۔ان کے بعد پنڈت گوردھن داس صاحب فری تھنکر نے اپنا مضمون بیان کیا۔بعدۂ نصف گھنٹہ کے وقفہ کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ مشہور ومعروف مضمون جو بعد میں اسلامی اصول کی فلاسفی کے نام سے شائع ہوا۔اور جس کا دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے پڑھ کر سنانا شروع کیا۔لیکن ابھی پانچ سوالوں کے جواب میں سے بمشکل ایک سوال کا جواب ہی سنایا تھا کہ شام ہونے لگی لے اور اس پر جلسہ ساڑھے پانچ بجے ختم کرنا پڑا۔مگر حاضرین نے اصرار کیا کہ اس مضمون کو مکمل طور پر سنانے کے لئے جلسہ کا ایک دن بڑھا لیا جائے۔چنانچہ ایگزیکٹو کمیٹی نے موڈریٹر صاحبان کی رضا مندی سے انجمن حمایت اسلام کے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ سے چوتھے دن کے لئے ہال کو استعمال کرنے کی اجازت حاصل۔۔۔۔۔کر کے صدر جلسہ حضرت مولوی صاحب کو اطلاع دی کہ آپ چوتھے دن کا اعلان فرما دیں۔جس پر آپ نے ذیل کے الفاظ میں اس روز کے اجلاس کی کارروائی کو ختم کیا: ” میرے دوستو ! آپ نے پہلے سوال کا جواب جناب مرزا صاحب کی جانب سے سنا۔ہمیں خاص کر جناب مولوی عبدالکریم صاحب کا مشکور ہونا چاہئے جنہوں نے ایسی قابلیت کے ساتھ اس مضمون کو پڑھا۔میں آپ کو مژدہ دیتا ہوں کہ آپ کے اس فرطِ شوق اور دلچسپی کو دیکھ کر جو آپ نے مضمون کے سننے میں ظاہر کی اور خصوصاً موڈریٹر صا حبان اور دیگر عمائد ورؤسا کی خاص فرمائش سے ایگزیکٹو کمیٹی نے منظور کر لیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے بقیہ حصہ مضمون کے لئے وہ چوتھے دن اپنا آخری اجلاس کرے۔اب نماز مغرب کا وقت قریب آ گیا ہے اور میں زیادہ آپ کا وقت لینا نہیں چاہتا۔صرف میں آپ کو