لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 346 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 346

346 ا ۱۹۰ ء کا جلسہ سالانہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے مکان میں ہوا تھا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب سیڑھیوں کے پاس حضور کے انتظار میں کھڑے تھے۔حضور نے سیڑھی سے نیچے اترتے ہی فرمایا۔کیا وقت ہے؟ شیخ صاحب نے اپنی گھڑی دیکھ کر عرض کی کہ حضور دس بج چکے ہیں۔حضور کے ہاتھ میں عصا تھا۔حضور نے اس کے سہارے کھڑے ہو کر تقریر شروع فرمائی جو قریباً چھ گھنٹے جاری رہی۔چنانچہ تقریر کے بعد ظہر و عصر کی نمازیں جمع ہوئیں اور پھر شام کا کھانا کھایا گیا۔بعدہ مغرب وعشاء کی نمازیں جمع ہوئیں اور احباب اپنے کمروں میں جا کر سور ہے۔۲۔جب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر کے واپس لاہور پہنچا تو گھر میں کسی شخص نے میری مخالفت نہیں کی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت مولوی محمد غوث صاحب جو میرے نانا تھے وہ حضرت اقدس کی شخصیت سے بے حد متاثر تھے۔مجھ سے حضور کی کتابیں پڑھوا کر سنا کرتے تھے۔حضرت اقدس کی بعض تحریر میں سنکر ان کے آنسو نکل آتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ یہ کوئی معمولی انسان نہیں۔نانا صاحب نے حضور کی بیعت بھی کر لی تھی۔آپ چینیاں والی مسجد کے متولی تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ سید دلاور شاہ صاحب بخاری ایک نہایت ہی مخلص اور پُر جوش احمدی تھے۔حضرت میاں عبد العزیز صاحب مغل کے ساتھ ان کی خاصی دوستی تھی۔جس زمانہ میں آپ مسلم آؤٹ لک کے ایڈیٹر تھے راجپال نامی ایک آریہ نے آنحضرت ﷺ کے خلاف ”رنگیلا رسول“ کے نام سے ایک نہایت ہی دلآ زار کتاب شائع کی تھی جس کی بناء پر اسے زیر دفعہ ۱۵۳۔الف تعزیرات ہند چھ ماہ قید با مشقت اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ یا بصورت عدم ادائیگی جرمانہ چھ ماہ مزید قید کی سزا ہوئی تھی۔راجپال نے پنجاب ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔جسے سن کر ہائیکورٹ کے حج کنور دلیپ سنگھ نے اسے بری کر دیا۔دلیپ سنگھ کے اس فیصلہ کے خلاف سید دلاور شاہ صاحب بخاری نے ۱۴۔جون ۱۹۲۷ء کے پرچہ میں مستعفی ہو جاؤ“ کے عنوان سے ایک ادار یہ لکھا جس کی بناء پر پنجاب ہائیکورٹ کی طرف سے اخبار کے ایڈیٹر ( یعنی سید دلاور شاہ صاحب ) اور اس کے مالک و طابع ( مولوی نور الحق صاحب کے خلاف توہین عدالت کے جرم میں مقدمہ دائر کر دیا گیا۔اور آپ کو چھ ماہ قید محض محترم ڈاکٹر عبیداللہ صاحب کا بیان ہے کہ ملا محمد غوث صاحب نے ۱۹۰۴ء میں بیعت کی تھی۔مگر بیعت کے بعد اکثریت کی مخالفت کی وجہ سے مسجد چینیانوالی کی تولیت سے دستبردار ہو گئے تھے۔