لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 33 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 33

33 خواه سناتن دھرم والے یا کوئی اور۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ اس روز اس پاک کتاب کا جلوہ ظاہر ہو۔میں نے عالم کشف میں اس کے متعلق دیکھا کہ میرے محل پر غیب سے ایک ہاتھ مارا گیا اور اس ہاتھ کے چھونے سے اس محل میں سے ایک نور ساطع نکلا جو اردگرد پھیل گیا اور میرے ہاتھوں پر بھی اس کی روشنی پڑی۔تب ایک شخص جو میرے پاس کھڑا تھا وہ بلند آواز سے بولا الله اکبر - خَرِبَتْ خَيْبَرُ - اس کی یہ تعبیر ہے کہ اس محل سے مراد میرا دل ہے جو جائے نزول وحلول انوار ہے۔اور وہ نور قرآنی معارف ہیں۔اور خیبر سے مراد تمام خراب مذاہب ہیں جن میں شرک اور باطل کی ملونی ہے اور انسان کو خدا کی جگہ دی گئی یا خدا کے صفات کو اپنے کامل محل سے نیچے گرا دیا ہے۔سو مجھے جتلایا گیا ہے کہ اس مضمون کے خوب پھیلنے کے بعد جھوٹے مذہبوں کا جھوٹ کھل جائے گا اور قرآنی سچائی دن بدن زمین پر پھیلتی جائے گی۔جب تک کہ اپنا دائرہ پورا کر لے۔پھر میں اس کشفی حالت سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے یہ الہام ہوا۔اِنّ الله مَعَكَ إِنّ الله يَقُوم اينما قمت - یعنی خدا تیرے ساتھ ہے اور خدا وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں تو کھڑا ہوتا ہے۔یہ حمایت الہی کیلئے ایک استعارہ ہے۔اب میں زیادہ لکھنا نہیں چاہتا۔ہر ایک کو یہی اطلاع دیتا ہوں کہ اپنا اپنا حرج کر کے بھی ان معارف کو سننے کیلئے ضرور بمقام لا ہور تاریخ جلسہ پر آدیں کہ ان کی عقل اور ایمان کو اس سے وہ فائدے حاصل ہوں گے کہ وہ گمان نہیں کر سکتے ہوں گئے نے یہ اشتہار جو ایک زبر دست پیشگوئی پر مشتمل تھا ملک کے طول وعرض میں پھیلا دیا گیا۔لاہور کے درودیوار پر بھی چسپاں کیا گیا اور لوگوں میں بھی تقسیم کیا گیا۔یادر ہے کہ ایگز یکٹو کمیٹی یعنی مجلس منتظمہ کی طرف سے اس جلسہ کی صدارت اور تقریروں کو حسب شرائط کمیٹی اندازہ کرنے کیلئے مندرجہ ذیل چھ اصحاب ماڈریٹر مقرر ہو چکے تھے۔ا۔رائے بہادر با بو پر تول چند رصاحب حج چیفکورٹ پنجاب۔-۲ خان بہادر شیخ خدا بخش صاحب حج سمال کا زکورٹ لاہور۔۔رائے بہا در پنڈت رادھا کشن صاحب کول پلیڈر چیفکورٹ سابق گورنر جموں۔