لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 335
335 الدین صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب عرض کر چکے تھے کہ حضور ! ہم نے باہر کھلے میدان میں مکان بنوائے ہیں۔اب کی مرتبہ حضور ہمارے ہاں قیام فرما ئیں۔حضور نے فرمایا۔لاہور میں ہمارا گھر تو میاں چراغ دین والا گھر ہے اگر میاں چراغ دین صاحب آپ کو اجازت دیں تو ہم آپ کے ہاں ٹھہر جائیں گے حضرت میاں چراغ دین صاحب بہت حلیم الطبع اور رقیق القلب انسان تھے ان کے زور دینے پر مان گئے۔جب حضور کو اطلاع ہوئی تو حضور نے احمد یہ بلڈنکس میں قیام کرنا منظور فرمالیا۔مگر حضور جب تک لاہور میں مقیم رہے۔میری والدہ حیات بیگم مرحومہ حضور کا کھانا خود اپنے ہاتھ سے تیار کر کے دونوں وقت بھیجتی رہیں اور ناشتہ بھی۔اولا د: ڈاکٹر بشارت احمد۔صالحہ بیگم۔صفیہ بیگم۔ڈاکٹر خورشید بیگم۔رضیہ بیگم۔حلیمہ بیگم۔حضرت شیخ محمد حسین صاحب ڈھینگرو ولادت : ۱۸۹۰ء بیعت : ۱۹۰۴ء محترم شیخ محمد حسین صاحب ڈھینگڑہ سکنہ گوجرانوالہ حال لاہور حلقہ سلطان پورہ حضرت ! السلام کے ابتدائی صحابہ میں سے حضرت شیخ کریم بخش صاحب کے صاحبزادہ ہیں۔حضرت شیخ صاحب نے ۱۸۹۱ء میں بیعت کی تھی۔محترم شیخ محمد حسین صاحب فرماتے ہیں کہ میں بچہ ہی تھا جب میری والدہ صاحب وفات پاگئیں۔والد صاحب بسلسلہ کا روبار یا ملا زمت جہاں بھی جاتے تھے مجھے اپنے ساتھ رکھتے تھے۔۱۹۰۳ء میں والد صاحب پشاور میں تھے۔وہاں مجھے انہوں نے سکول میں داخل کیا۔حضرت قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری اور حضرت مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری کے صاحبزادے میاں عبداللہ جان اور میاں حمید اللہ جان بھی اسی سکول میں پڑھتے تھے اور ہر طرح میرا خیال رکھتے تھے۔۱۹۰۴ء میں جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا لا ہور میں لیکچر ہوا تو حضرت قاضی محمد یوسف صاحب کی کوشش سے خاکسار کو بھی حضور کے قریب جگہ مل گئی۔میں نے قاضی صاحب کو کہا کہ میرے والد صاحب احمدی ہیں کیا میں بھی حضور کی بیعت کروں ؟ انہوں نے فرمایا کرلو۔اور مجھے پکڑ کر حضور کے قدموں میں بٹھا دیا۔چنانچہ سب سے پہلے میں نے حضور کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔اس کے بعد