لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 323 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 323

323 سال تک بطور سیکرٹری امور عامہ قابل قدر کام کیا۔حفاظت مرکز میں بھی جبکہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا دفتر لاہور میں تھا۔آپ نے کئی سال تک حضرت صاحبزادہ صاحب کا ہاتھ بٹایا۔آپ فرماتے ہیں کہ : ایک دفعہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا آپ میرے ملٹری سیکرٹری ہیں کیونکہ میں فوجی درویشوں کی پنشن وغیرہ کے سلسلہ میں ڈرافٹ لکھ کر آپ کی خدمت میں پیش کیا کرتا تھا۔آپ فرماتے ہیں کہ : والد صاحب کے چار اور بھائی تھے اور پانچوں ہی صحابی تھے۔سب سے بڑے شیخ حسین بخش صاحب منٹگمری سے بعہدہ نائب تحصیلدار ریٹائر ہوئے۔اور وہیں رہائش اختیار کر لی۔وفات کے بعد قادیان دارالامان میں بہشتی مقبرہ میں مدفون ہوئے۔آپ کے والد صاحب کا ذکر او پر گذر چکا ہے کہ بدوملہی میں فوت ہوئے اور وہیں دفن کئے گئے۔تیسرے شیخ غلام حسین صاحب بدوملہی میں پٹواری تھے۔وہیں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔چوتھے شیخ غلام احمد صاحب نے نومبر ۱۹۰۸ء میں بھوپال میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے آپ کے والد ماجد اور یہ دونوں بھی صاحب الہام وکشف تھے۔پانچویں سب سے چھوٹے شیخ نور احمد صاحب وکیل ایبٹ آبا د خلافت ثانیہ کے قیام کے بعد لاہوری جماعت میں شامل ہو گئے تھے۔جنوری ۱۹۲۱ء میں لا ہور میں وفات پائی اور لاہور میں ہی دفن ہوئے۔آپ تین بھائی تھے۔بڑے کا نام شیخ علی احمد تھا۔وہ گر داور قانونگوئی تھے۔صحابی بھی تھے۔چند ماہ ۱۹۰۳ء میں تعلیم الاسلام کا لج قادیان میں داخل رہے اور پھر تعلیم چھوڑ کر گر د اور قانونگوئی کے طور پر ملازمت اختیار کر لی۔۱۹۲۱ء میں مردم شماری کے سلسلہ میں لودھیانہ میں دارالبیعت میں قیام کی سعادت نصیب ہوئی۔وہیں جولائی ۱۹۲ء میں وفات پائی اور وہیں دفن کئے گئے۔تیسرے بھائی محمود احمد صاحب تھے۔ٹی۔آئی ہائی سکول قادیان میں نویں جماعت کے طالب علم تھے۔کہ ۱۹۲۴ء میں گرمیوں کی رخصتوں میں دھر مکوٹ آئے اور وہیں وفات پائی۔اخبار فاروق نے ان کی وفات پر ایک نوٹ بھی لکھا تھا۔جس میں عزیز مرحوم کے اخلاق کی بہت تعریف کی تھی۔